خطبات محمود (جلد 4) — Page 169
خطبات محمود جلد ۴ ۱۶۹ سال ۱۹۱۴ء لئے نہیں۔اور اپنے آپ کو ہر ایک قسم کے دکھوں اور تکلیفوں سے مامون اور مصئون سمجھتے ہیں اس کی وجہ یہی ہے کہ ان کے دل سخت ہو جاتے ہیں۔بعض جگہ طاعون پڑی ہے تو ایسا بھی ہوا ہے کہ بجائے اس کے کہ اس سے لوگ نصیحت اور عبرت پکڑتے قبروں کو اکھیڑ کر مردوں کے کفن اتارتے رہے ہیں اور ایسے واقعات بھی ہوئے ہیں کہ مُلاں نے مُردے کو جلدی دفن کرنے کی وجہ سے اس کے زیور نہ اُتارنے دیئے اور پھر قبر کھود کرمیت کے ہاتھ اور کان زیور کیلئے کاٹ لئے۔ان عبرتوں کو دیکھ کر بھی جن کے سامان خدا تعالیٰ کی طرف سے مہیا ہوتے ہیں کمبخت لوگ فائدہ نہیں اٹھاتے لیکن جو خدا تعالیٰ کے فرمانبردار اور نیک بندے ہوتے ہیں وہ ضرور نفع حاصل کر لیتے ہیں۔یہ انسان بھی عجیب قسم کے ہوتے ہیں ہم نے ان کا دل تو نرم بنایا تھا حتی کہ اس میں ہڈی بھی کوئی نہیں رکھی تھی مگر ان کے دل پتھر سے بھی زیادہ سخت ہو گئے روزانہ اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھتے ہیں لیکن پھر کہہ دیتے ہیں کہ یہ اتفاقی بات ہے۔خدا تعالیٰ آپ لوگوں کو اپنی باتوں کے سمجھنے اور ان سے فائدہ حاصل کرنے کی طاقت دے۔تمہارے دلوں کو نرم کر دے اور محبت و اخلاص سے بھر دے۔اور آپس میں اتفاق رکھنے کی توفیق دے۔الفضل ۱۰ ستمبر ۱۹۱۴ ء ) البقرة: