خطبات محمود (جلد 4) — Page 166
خطبات محمود جلد ۴ ۱۶۶ سال ۱۹۱۴ء کی ہر ایک حرکت کا پتہ پولیس والوں کو لگتا رہتا ہے اور اس کی ایک تصویر بھی اتر جاتی ہے یا بعض آدمی اس کا ایک سرا گھر میں اور دوسرا دفتر میں رکھ لیتے ہیں۔چور آیا بس فوراً پتہ لگ گیا کہ فلاں کوٹھڑی میں چور ہے اور اسکا فوٹو بھی ساتھ ہی اتر آتا ہے۔اور اسکا پتہ لگ جاتا ہے امراء کو اس سے بہت فائدہ پہنچا ہے اور وہ بہت کچھ ایسی وارداتوں سے محفوظ رہتے ہیں۔شرارتیوں نے اپنی شرارتوں کی ایجادیں کیں۔اور اللہ تعالیٰ نے ان کی خباثتوں کو ظاہر کرنے کیلئے سامان پیدا کر دیئے۔میں تو اس کو بھی ایک پیشگوئی ہی سمجھتا ہوں۔اگر چوروں نے ایسی ایجادیں کیں کہ ان سے ان کا جرم پوشیدہ رہے تو اللہ تعالیٰ نے بھی ان کے جرم کو ظاہر کرنے کے لئے سامان پیدا کر دیئے ہیں۔یہ بڑی عبرت اور نصیحت کا مقام ہے۔مجرم کو اپنے جرم پر دلیر کرنے والی چیز اور ان کیلئے یہ بڑی تسلی ہوتی ہے کہ ہم اپنے جرم کو چھپالیں گے لیکن اللہ تعالیٰ نے بھی کیسے کیسے سامان پیدا کر دیئے ہیں کہ مجرم کا جرم کسی حالت میں مخفی نہیں رہ سکتا۔اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق دے کہ ہم مخفی در مخفی اور ظاہر حالات میں بھی اس کے فرمانبردار اور مطیع ہوں اور اس کے احکام کو ماننے والے ہوں۔آمین ثم آمین۔ل البقرة: ۷۴۷۳ البقرة : ١٩٠ الفضل ۳ ستمبر ۱۹۱۴ ء )