خطبات محمود (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 146 of 574

خطبات محمود (جلد 4) — Page 146

خطبات محمود جلد ۴ ۱۴۶ سال ۱۹۱۴ء وَإِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَلَى فَإِنِّي قَرِيبٌ أُجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ فَلْيَسْتَجِيبُوالى وَلْيُؤْمِنُوا بِي لَعَلَّهُمْ يَرْشُدُونَ سے روزوں کے مبارک دن ہوتے ہیں پس مبارک ہے وہ انسان جو ان سے فائدہ اٹھائے۔آنحضرت صلی یا یتیم کے وقت میں تہجد کی جماعت نہیں ہوتی تھی۔بعد میں صحابہ نے پسند کیا کہ بعض لوگ چونکہ سست ہوتے ہیں اس لئے جماعت سے مل کر وہ بھی پڑھ لیا کریں گے۔پس بہتر ہے کہ ایسے لوگ جو اپنے نفسوں سے ڈرتے ہیں اور سحری کھانے سے پہلے پچھلی رات یا پھر پہلی رات ہی باجماعت پڑھ لیا کریں اور جن کو اپنے نفسوں پر قابو ہے وہ الگ گھر میں پڑھ لیا کریں۔اصل مدعا تو قرآن کریم کا پڑھنا اور دعاؤں میں مشغول رہنا ہے۔گھر میں بھی لمبی لمبی سورتیں پڑھی جاسکتی ہیں۔اس زمانہ میں ہمارے لئے بہت سی مشکلات ہیں۔دنیا کے مقابلہ میں پہلے ہی ہماری جماعت ایک قلیل جماعت تھی لیکن اب تو اس میں سے بھی کچھ حصہ الگ ہو گیا ہے۔پہلے ہم غیر احمدیوں کے حملوں کو اندرونی حملے کہا کرتے تھے لیکن اب تو اندرونی در اندرونی شروع ہو گئے ہیں اس لئے جو شخص با وجود دشمنوں کے تین حلقوں سے گھرا ہوا ہونے کے آرام سے سوتا ہے وہ بیوقوف ہے اور خصوصا اس وقت جب کہ اسے جاگنے اور دشمن کے مقابلہ کیلئے تیاری کرنے کا موقع بھی مل جائے۔تم ان دنوں میں خوف خدا کو مد نظر رکھ کر دعائیں کرو تا کہ خدا تعالیٰ اس اندرونی فتنہ کو دور کر دے۔تم خوب سمجھ رکھو کہ خدا تعالیٰ کی نصرت کے بغیر نہ کبھی پہلے کچھ ہوا اور نہ اب ہوگا۔تمہارے پاس فوج بلشکر عزت ، دولت ، آلات وغیرہ کچھ نہیں جس سے تم نے تمام دنیا کا مقابلہ کرنا ہے تمہاری کامیابی کا صرف ایک ہی ذریعہ ہے اگر اس کو پکڑ لو گے تو کامیاب ہو جاؤ گے۔اور وہ یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کی چوکھٹ کو پکڑ لو۔اور اسی کے آگے عرض کرو کہ ہمیں تمام دشمنوں سے بچائیے۔ایک ڈاکو اسی وقت تک کسی کے مال پر حملہ کرتا ہے جبکہ وہ پولیس کے ہیڈ کوارٹر سے دور ہوتا ہے اور اگر تھانے کے پاس ہو تو وہ حملہ نہیں کرتا۔تم بھی خدا تعالیٰ کے حضور گر جاؤ۔اور اس کی چوکھٹ کو پکڑ کر اس سے پناہ مانگو پھر تم پر کوئی حملہ نہیں کر سکے گا اور اگر کرے گا تو اس بادشاہوں کے بادشاہ کے سپاہی اس کو خود پکڑ کر سزا دیں گے۔یہ دن ضائع مت کرو فتنے بند نہیں ہو رہے بلکہ بڑھ رہے ہیں ، مصائب کم نہیں ہورہے بلکہ زیادہ ہو رہے ہیں اس لئے تم مستی نہ کرو۔مسلمانوں کی تاریخ پڑھ کر حیرانی آتی ہے کہ عین جنگ کے موقع پر بھی باقاعدہ