خطبات محمود (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 136 of 574

خطبات محمود (جلد 4) — Page 136

خطبات محمود جلد ۴ سال ۱۹۱۴ء مولوی اگر وعظ کرنے لگے تو اسے کہہ دیا جاتا ہے کہ مولوی صاحب ! اگر روپے لینے ہیں تو یہاں سود پر تقریر مت کرنا اور جو باتیں ہم کرتے ہیں ان سے روکنے کیلئے وعظ مت کرنا۔ہاں ویسے وعظ نصیحت کر دو۔اور نماز روزہ کی تاکید کردو تو لوگوں کو ان کے قصور پر مطلع کرنا اور اس سے روکنا مشکل امر ہے۔پھر اس کا صرف یہی کام نہیں۔جب وہ یہاں تک پہنچے تو اسے وَالْحَفِظُونَ يحدُودِ اللهِ پولیس مین police man) کی طرح چوکس رہنا چاہیئے۔اور ہوشیاری سے کام کرنا چاہیئے۔کوئی آدمی اللہ تعالیٰ کے حکم کو توڑے نہیں۔وہ اللہ تعالیٰ کے احکام قائم کرواتے رہتے ہیں وبشر الْمُؤْمِنِينَ ایسے مومنوں کو خدا تعالیٰ کی طرف سے بشارت ہے۔تو تم رستے میں کئی طرح کی بیعیں دیکھو گے لیکن خوب یادرکھو اللہ تعالیٰ بھی ایک بیع تم سے کرتا ہے اور ہر شخص جو اپنا نام مسلمان رکھتا ہے وہ اس بات کا اقرار کرتا ہے کہ میں نے خدا سے یہ بیچ کی۔پس تم اس بات کا خیال رکھنا کہ تم اس پر کتنا عمل کرتے ہو۔تم نے مسلمان ہونے کا دعویٰ کیا ہے تم اب قادیان سے جاتے ہو لوگ تمہیں دیکھیں گے کہ تم اس معاہدہ کے کتنے پابند ہو اور وہ دیکھیں گے کہ تم وہاں سے کیا سیکھ کر آئے ہو۔اور تم ان شرائط کی کسی حد تک پابندی کرتے ہو۔میں یہ نہیں کہتا کہ تم سے غلطی ہو نہیں سکتی۔ہاں اگر تم سے کوئی غلطی سرزد ہو بھی جائے تو فور اللہ تعالیٰ کے سامنے جھک جاؤ اور گھبراؤ نہیں جب غلطی ہو تو فوڑ ا خدا کے سامنے جھک جاؤ اور اس سے معافی مانگ لو۔انسان گرتا ہی سوار ہوتا ہے جو کبھی سوار ہی نہیں ہوا وہ گرے گا کیسے اور وہ میدان جنگ کا سپاہی کیونکر بنے گا۔کسی شاعر نے کہا ہے:۔گرتے ہیں شہسوار ہی میدان جنگ میں وہ طفل کیا گرے گا جو گھٹنوں کے بل چلے اپنے تمام کاموں میں اللہ تعالیٰ ہی کی طرف خیال رکھو اور عبادت کی طرف خیال رکھو اور کڑھو نہیں بلکہ اتحامِدُون خدا کی حمد کرتے رہو اور اسی کی حمد کر کے اٹھو نماز و روزہ وغیرہ ادا کرو۔دین میں سستی نہ کرو۔اور اللہ تعالیٰ کی حمد ادا کرو کہ اس نے تمہیں ایسے والدین دیئے جو دین کے خادم ہیں۔خود کام کرو تو بھی الحمد للہ کہو۔کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں تو فیق دی۔جو بات امر الہی کے خلاف ہے اور لغو ہو اسے فورا ترک کردو اور فوڑ ا س