خطبات محمود (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 121 of 574

خطبات محمود (جلد 4) — Page 121

خطبات محمود جلد ۴ ۱۲۱ سال ۱۹۱۴ء سے پانی لینے میں بہت آسانی ہوتی ہے۔اس سے ان کے اختلافات بھی مٹ گئے۔بعض لوگ کہتے ہیں کہ حضرت موسیٰ کی جیب میں کوئی پتھر تھا اس میں سے وہ چشمے نکلے تھے۔یہ غلط ہے۔یہ قرآن کریم میں ذکر ہے۔اگر احادیث میں ہوتا تو جرح بھی ہو سکتی تھی۔لیکن اب اس پر جرح نہیں ہو سکتی۔یہ اللہ تعالیٰ کا ان پر احسان تھا کہ پانی کی جگہ الہام کے ذریعہ ان کو بتلائی۔وہ ہمیشہ سے احسان کرتا آیا ہے اور کرتا رہے گا۔اس پر ہمیں اعتراض کرنے کی ضرورت ہی کیا ہے۔اور ہمیں کوئی ضرورت نہیں کہ قرآن کریم کے الفاظ کو چھوڑ کر خواہ نخواہ افراط و تفریط میں مبتلا ہوں۔اکثر لوگوں کو معجزات کے متعلق بڑی بڑی ھے غلطیاں لگی ہیں۔میں نے ایک آدمی کو یہ کہتے سنا کہ وہ سیاہی جو کشف کی حالت میں حضرت صاحب کے کپڑوں پر گری تھی) وہ کسی چھپکلی کی دم کٹ گئی ہوگی اور وہ لہو آپ کے کپڑوں پر گرا ہو گا۔میں نے تب خیال کیا کہ ابھی اس زمانہ میں ہی لوگوں کو شک اور احتمال شروع ہو گئے ہیں تب مدت کے بعد ان کا کیا حال ہوگا تب تو یقین تک نوبت پہنچ جاوے گی۔مومن کیلئے افراط و تفریط سے بچنے کا آسان اور عمدہ طریق یہی ہے کہ اصل الفاظ کو لے لے۔نہ افراط کی طرف جاوے اور نہ تفریط کی طرف۔بعض لوگ مباحثہ کرتے وقت کہہ دیتے ہیں کہ کیا خدا قادر نہیں کہ عیسی کو زندہ رکھ سکے اور آسمان پر لے جاوے۔خدا قادر تو ہے اور وہ اس بات پر بھی قادر ہے کہ ایک چنے کے دانے سے ایک چشمہ نکال دے مگر کر سکتا۔“ اور ” کرنا ان میں فرق ہے۔قادر ہونے سے یہ ثابت نہیں ہو سکتا کہ عیسی زندہ آسمان پر ہے۔یا ایک چنے کے دانے سے چشمہ نکلتا ہے۔میں اس وقت اس مسجد میں کھڑا ہوں تو ممکن تو ہے کہ میں باغ میں ہوں۔ہو سکتا ہے کہ ایک شخص یہاں ہو گر وہ کسی اور شہر میں ہو ممکن تو ہے کہ ایک شخص یہاں ہو لیکن وہ ریل میں سفر کر رہا ہو لیکن ایسا فی الواقع ہے تو نہیں۔معجزات اور آیات کی تشریح اور معانی میں اصل الفاظ کو ملحوظ رکھو۔اللہ تعالیٰ کے کاموں میں ایسا کرنا گستاخی ہے۔مومن کو چاہئے کہ ہمیشہ محفوظ طریق اختیار کرے۔جتنا اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے پس اسی پر اکتفاء کرے۔ل البقرة :۶۱ الفضل ۲۔جولائی ۱۹۱۴ ء ) ے مسلم کتاب الایمان باب ادنى اهل الجنة منزلة فيها۔