خطبات محمود (جلد 4) — Page 120
خطبات محمود جلد ۴ ۱۲۰ سال ۱۹۱۴ء صرف نیچر کے اسباب دیکھ کر جو دل میں کوئی عمدہ بات پیدا ہو جاوے۔اس کا نام الہام رکھ دیا گیا ہے۔اسی طرح قرآن کریم کا ترجمہ کرتے ہوئے لوگوں نے ایسی ایسی تاویلوں سے کام لیا کہ اصل مطلب کو ضائع کر دیا۔کئی تو حد سے بہت آگے نکل گئے اور کئی نے اس کو محال خیال کر کے اور ہی تاویلیں کر دیں اور وہاں تک پہنچے ہی نہیں۔اور معجزات کو بری طرح پیش کیا مثلاً نَاقَةُ الله اس کے متعلق طرح طرح کے خیالات ظاہر کئے اور عجیب عجیب تشریحیں شروع کر دیں۔ناقَةُ اللهِ اللہ کی اونٹنی۔یہ کوئی معمولی سی اونٹنی تو نہ ہوگی۔اب لگے اس کی تاویلیں کرنے۔بعض نے کہہ دیا کہ کفار نے معجزہ مانگا تھا کہ پہاڑ سے اونٹنی نکالوں جس کے بچہ بھی ہو۔پس حضرت صالح علیہ السلام نے دعا کی تو فوراً پہاڑ اونچا ہونا شروع ہو گیا اور اس میں سے ایک اونٹنی نکل آئی۔پھر اونٹنی کو فورا ہی حمل ہو گیا اور اسی وقت ایک بچہ اس نے کے پیدا ہو گیا۔دوسرے آئے انہوں نے اسلام کی تائید میں جو حقیقی معجزات تھے ان کی بھی تاویلیں شروع کر دیں اور تمام حق باتوں کو مٹانا چاہا۔نہ تو حد سے بڑھنے کی ضرورت تھی اور نہ ہی کسی اور طرف جانے کی ضرورت تھی۔اگر جیسا قرآن کریم نے لکھا ہے ویسا کرتے تو یہ ٹھوکریں نہ لگتیں۔یہاں قرآن کریم نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کا ایک واقعہ بیان فرمایا ہے۔ان میں الفاظ کی کمی یا زیادتی کرنا جائزہ نہیں۔حضرت موسیٰ علیہ السلام اللہ تعالیٰ کے حکم سے مصر سے نکلے۔رستے میں ایک جگہ پانی کی ضرورت پڑی۔پانی کہیں سے نہ ملا۔اللہ تعالیٰ سے دعا کی۔اللہ تعالیٰ نے بذریعہ الہام ان کو بتلا دیا کہ اس پتھر پر اپنا عصا مارو۔انہوں نے ایسا ہی کیا۔اس میں سے بارہ چشمے پھوٹ پڑے۔یہ نظارے عموما دیکھے جاتے ہیں کہ پہاڑوں میں کئی جگہوں میں پانی جمع ہوتا ہے اور موقع ملے تو وہ بہہ نکلتا ہے۔ایسی جگہ ہر ایک آدمی معلوم نہیں کر سکتا۔آج کل کچھ ایسے علوم نکل آئے ہیں جن کے ذریعہ سے معلوم ہو سکتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے ان کو ( حضرت موسیٰ علیہ السلام کو ) بذریعہ الہام بتلا دیا کہ فلاں جگہ پانی نزدیک ہے وہاں سوٹا مارو پانی نکل آئے گا۔انہوں نے حکم الہی کے مطابق کیا۔وہاں سے بارہ چشمے بہہ نکلے۔ایسا دیکھا گیا ہے کہ بعض جگہوں میں سترہ سترہ چشمے ایک پتھر سے نکلتے ہیں۔اس میں ایک سہولت ہوتی ہے کہ بہت سے لوگ جمع ہوں تو ایک ہی جگہ پر ان کو پانی لینے میں تکلیف ہوتی ہے مگر بہت سا پانی ہو تو وہاں