خطبات محمود (جلد 4) — Page 119
خطبات محمود جلد ۴ 119 سال ۱۹۱۴ء فریبی تھا اور اس پر اپنے ناپاک اور گندے خیالات سے طرح طرح کے الزامات لگائے۔تمام مذاہب میں ان دو ہی وجھوں سے اختلافات پیدا ہوئے اور ان میں باطل پھیلا۔اسلام میں بھی دوسرے مذاہب کی طرح ایسے گروہ پیدا ہو گئے۔اور ایک گروہ ان میں سے ایسا ہوا جس نے اہل بیت نبی پر بڑے بڑے نا پاک حملے کئے اور ان کو گندہ کہا اور انہوں نے اس بات کا فیصلہ کر دیا کہ اہل بیت نبی نَعُوذُ باللہ ناپاک تھے۔اور ایک گروہ ایسا پیدا ہوا جس نے ان کی تعریف میں ایسا مبالغہ کیا کہ حد سے بڑھ گئے اور کہا ان سے کبھی کوئی غلطی ہو سکتی ہی نہیں۔کچھ ایسے ہوئے کہ اگر صحابہ سے کوئی غلطی ہوئی ہے تو ان کو گالیاں دینی شروع کر دیں۔کچھ ایسے ہوئے جنہوں نے کہہ دیا جو کرتا ہے خدا ہی کرتا ہے ہمارا کچھ اختیار نہیں، ہم کچھ نہیں کر سکتے۔سب کچھ خدا ہی کرتا اور خدا ہی کرواتا ہے ہمارا اس میں کچھ دخل نہیں ہے۔دوسروں نے ایسا کہ دیا کہ خدا کا کسی بات پر تسلط ہی نہیں جو کرتے ہیں ہم خود کرتے ہیں۔ایک تو اتناحد سے بڑھ گئے کہ خدا ہی کرتا کرواتا ہے۔خدا ہی چوری، جھوٹ اور برائیاں کرواتا ہے۔دوسروں نے کہا کہ سب کچھ ہم خود ہی کرتے ہیں خدا کا اس میں دخل ہی کوئی نہیں۔تو افراط و تفریط سے ہی تمام مذاہب پر تباہیاں آئیں حالانکہ ان سب کیلئے ایک نقطہ وسط تھا جس پر وہ جمع ہو سکتے تھے۔نبی کریم صلی یہ تم نے مرنے کے بعد کا ایک واقعہ بیان فرمایا ہے جو افراط و تفریط سے بچانے کیلئے آپ نے فرمایا: کہ ایک پل صراط ہے جس پر سے گزر کر جنت کو جانا ہوگا۔جو اس پر سیدھا چلے گا اور ذرا بھی ادھر ادھر نہ ہو گا وہ جنت میں پہنچ جاوے گا اور ذرا ادھر ادھر ہو گا تو دوزخ میں گرے گا ۲ معجزات ایک زندہ نشان ہوتے ہیں مذہب کیلئے۔اور مسلمانوں کو اللہ تعالیٰ نے اس سے بہت بڑی فوقیت دوسرے مذاہب پر دی ہوئی ہے۔اور یہ ایک نشان ہے خدا کی طرف سے۔اس سے اسلام کو ہر وقت تائید و نصرت ہوتی ہے مگر بعض مسلمانوں نے اس کو یہاں تک بڑھا دیا کہ اپنے پیروں کو خدا کا شریک ٹھہراد یا اور کہ دیا کہ ان سے کوئی چیز مخفی نہیں رہ سکتی۔اور جو کچھ ہے انہی کے اختیار میں ہے اور وہ جو کرنا چاہیں کر سکتے ہیں۔دوسرے آئے انہوں نے کہہ دیا کہ نبی کریم صلی ال ایام کے بعد اب اللہ تعالیٰ کسی سے کلام نہیں کرتا۔گو یا خدا تعالیٰ کو نَعُوذُ باللہ گونگ قرار دیا۔بعض نے کہ دیا کہ پہلے بھی کبھی اللہ تعالیٰ کسی سے ہمکلام نہیں ہوا اور نہ ہی اب کسی سے ہمکلام ہوتا ہے اور الہام وغیرہ کوئی چیز نہیں۔یہ