خطبات محمود (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 104 of 574

خطبات محمود (جلد 4) — Page 104

خطبات محمود جلد ۴ ۱۰۴ سال ۱۹۱۴ء مجھے کہا کہ ہیں مرزا جی! آپ ماس کھانے لگے ہیں۔مجھے معلوم نہیں تھا کہ ماس کیا ہوتا ہے۔میں نے کہا کہ ماس کیا ؟ تو اس نے کہا کہ کیا آپ گوشت کھایا کرتے ہیں؟ میں نے کہا ہم تو ہر روز اپنے گھر گوشت کھاتے ہیں۔اس مسلمان لڑکے کی اس قدر تعجب سے مجھ سے یہ بات پوچھنے کی وجہ یہ تھی کہ وہ ہندو استاد سے پڑھتا تھا۔بنی اسرائیل میں فرعونیوں کے خیالات اثر کر چکے تھے جن کی موسیٰ علیہ السلام اصلاح کرتے رہتے تھے۔اس لئے ان کو اپنے خیالات پر عمل کرنے کا موقع نہ ملتا تھا لیکن جب موسیٰ علیہ السلام ان سے چند دنوں کیلئے جدا ہوئے تو ان کو موقع مل گیا اور انہوں نے بچھڑے کی پرستش شروع کر دی۔جس طرح ہمارے چند آدمیوں نے چونکہ حضرت خلیفہ المسیح مرحوم ومغفور کی بیعت کی ہوئی تھی اس لئے آپ کے سامنے کچھ نہیں کر سکتے تھے لیکن ادھر آپ کی آنکھیں بند ہوئیں اور ادھر انہوں نے ٹریکٹ شائع کر دیا۔یہ کام ہمیشہ جھوٹے ہی لوگوں کا ہوتا ہے اور وہ ہر وقت نیش زنی کے منتظر رہتے ہیں جہاں ہے ان کو موقع ملتا ہے وہیں شرارتیں شروع کر دیتے ہیں۔بچے آدمی کبھی ایسا نہیں کرتے۔بنی اسرائیل میں جب تک موسیٰ علیہ السلام رہے انہوں نے کسی قسم کی چوں وچرانہ کی لیکن جب آپ گئے تو جھٹ بچھڑے کو پوجنے لگ گئے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ پھر ہم نے اس کے بعد تم پر رحم کر کے عفو کیا۔یعنی با وجود ساری قوم کے مشرک ہو جانے کے عذاب بعض لوگوں کو ہی دیا۔جس کی غرض زیادہ تر یہ تھی کہ تم شکر کرتے اور موسیٰ کی فرمانبرداری کرتے مگر تم نے کچھ بھی ایسا نہ کیا۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم نے موسیٰ کو فرقان دیا تا کہ تم ہدایت پاؤ۔تمام انبیاء کے لئے ایک کتاب ہوتی ہے اور ایک فرقان۔بعض انبیاء تونئی شریعت لاتے ہیں، اس لئے ان کو نئی کتاب ملتی ہے۔لیکن بعض کو الہام کے ذریعے بتایا جاتا ہے کہ تم پہلی شریعت کی ہی پیروی کرو۔یہ بھی ان کے لئے کتاب ہوتی ہے۔فرقان یہ ہوتا ہے کہ انبیاء کو خدا تعالیٰ حق و باطل میں تمیز کرنے کی فراست اور طاقت عطا کر دیتا ہے۔فرقان کے معنی ہیں رستہ کے۔یعنی اللہ تعالیٰ انبیاء کو ہر ایک مصیبت کے وقت ایسی راہ بتا دیتا ہے کہ جس سے وہ دشمن سے کبھی مغلوب نہیں ہوتے۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم نے موسیٰ کو کتاب دی اور فرمتان دیا تا کہ تم ہدایت پاؤ لیکن تم نے اس پر عمل نہ کیا اور شرارت کرنی شروع کر دی۔پھر موسیٰ علیہ السلام نے اپنی قوم سے کہا کہ اے میری قوم! تم نے یہ اپنی جانوں پر ظلم کیا ہے کہ ایک بچھڑے کو پوجنے لگ گئے