خطبات محمود (جلد 4) — Page 103
خطبات محمود جلد ۴ ۱۰۳ سال ۱۹۱۴ء جب موسیٰ علیہ السلام بہت مدت فرعون اور اس کی قوم کو تبلیغ کرتے رہے اور ان کو کوئی اثر نہ ہوا تو اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام کو حکم دیا کہ تم اپنی قوم کو لے کر اس ملک سے نکل جاؤ۔جب آپ اپنی قوم کو لے کر چلے تو فرعون کو اس بات کا پتہ لگ گیا وہ بہت سا لشکر لے کر ان کے پیچھے دوڑا لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت اور طاقت سے موسیٰ علیہ السلام اور اس کے ساتھیوں کو تو بچا لیا لیکن فرعون اور اس کے ہمراہیوں کو غرق کر دیا۔اللہ تعالیٰ بنی اسرائیل کو فرماتا ہے کہ ہم نے تمہاری خاطر سمندر کو پھاڑا اور تم کو فرعون کے لشکر سے نجات دی اور تمہاری آنکھوں کے سامنے آل فرعون کو غرق کیا۔ایک احسان ایسا ہوتا ہے جو انسان سنتا ہے کہ ایسا میرے لئے ہوا۔اس بات کا اس پر اور اثر ہوتا ہے لیکن جب وہ اپنی آنکھوں سے اپنے اوپر کوئی احسان ہوتے دیکھتا ہے تو اس کی خوشی اور راحت بہت بڑھ جاتی ہے۔بنی اسرائیل نے اپنی آنکھوں سے یہ دیکھا کہ ہم اور ہمارے دشمن ایک ہی جگہ سے آئے تھے لیکن جب ہم دریا سے گزرے ہیں تو دریا کا اکثر حصہ خشک تھا اور کہیں کہیں پانی تھا اس لئے ہم تو صحیح و سلامت گزر گئے ہیں لیکن جب اسی جگہ سے فرعون اور اس کا لشکر گزرنے لگا ہے تو پانی کی ایک لہر نے ان کو غرق کر دیا ہے۔مگر باوجود اتنے اتنے بڑے اور کھلے نشانات دیکھنے کے وہ باز نہ آئے اور موسیٰ علیہ السلام کو دکھ ہی دیتے رہے اور ان کی نافرمانی ہی کرتے رہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے بنی اسرائیل ! جو وعدہ ہم نے تمہارے ساتھ فرعون سے چھڑانے کا کیا تھا اور تم کو مصیبت سے نجات دی تھی لیکن تم نے اس کی کوئی قدر نہ کی۔پھر موسیٰ سے چالیس راتوں کا وعدہ کیا ( تیس راتوں کا ایک دفعہ اور دس کا ایک دفعہ۔دونوں ملا کر چالیس راتیں ہوئیں لیکن اے بنی اسرائیل! باوجود یکہ تم نے اتنے نشانات دیکھے لیکن پھر بھی تم بچھڑے کے پجاری بن گئے اور مشرک ہو گئے۔ظالم مشرک کو بھی کہتے ہیں۔بنی اسرائیل فرعونیوں کے ماتحت تھے اس لئے ان کے دلوں میں ان کی صحبت کی وجہ سے بچھڑے کی پرستش کے خیالات بیٹھے ہوئے تھے۔اب بھی جہاں جہاں مسلمان ہندوؤں کے زیر اثر ہیں وہاں گائے کا گوشت نہیں کھاتے۔میں یہاں کے پرائمری سکول میں پڑھنے جایا کرتا تھا اور جیسا کہ پرائمری سکولوں کا قاعدہ ہے کہ تمام دن کھلے رہتے ہیں۔ہمارا سکول بھی کھلا رہتا تھا۔اس لئے میرا کھا نا مدرسہ ہی میں گیا۔جب میں کھانا کھانے لگا تو ایک مسلمان لڑکے نے