خطبات محمود (جلد 4) — Page 555
۴۰۸ ۴۱۱ ۴۲۳ ۹ عرض کیا فرما ئیں آپ نے فرمایا ہاتھ رکھ دیا حضور نے سمجھا مجھے خدا تعالیٰ نے کہا ہے کہ وہ میری اطاعت نہیں کرتا اس نے آپ کو پہچان لیا ہے۔آنحضرت سلی یا اینم نے فرمایا تجھے سورة البينة (لَمْ يَكُنِ فرما یا کوئی ہے جو اس کو مول الَّذِينَ كَفَرُوا الخ ) بتاؤں کہ تو پڑھا کرے وہ امت جس کے پہلے میں ہوں اور آخر میں مسیح موعود ۲۳۴ لے لے اس نے کہا مجھے کون مسیح موعود حکمنا عدلاً ہوگا تم میں سے دو آدمی میرے مول لے سکتا ہے نبی کریم پاس جھگڑا لے کر آتے ہیں۔سلی می اکیا تم نے فرما یا خدا تعالی اور ایک اپنی چرب زبانی سے اپنے اس کے رسول کے نزدیک ہو وہ ہلاک نہیں ہو سکتی ۲۸۸،۲۸۷ تمہاری بے شمار قدر و قیمت حضرت نبی کر یم سالی یا یہ نام کے ہے زمانہ میں ایک خادم مسجد فوت مدینہ بھٹی کی طرح ہے ہو گیا صحابہ نے اس کو حضور کی ایک شخص نے رسول کریم اطلاع کے بغیر ہی دفن کر دیا صلی للہ الیہ الم سے دریافت کیا کہ آپ کو علم ہوا تو فرمایا مجھے خبر کتنی نماز میں فرض ہیں۔اس کیوں نہ دی ایک دفعہ آنحضرت سلیسیا می بینم ۳۳۷ نے عرض کیا کہ میں اس سے حق میں فیصلہ کروا کے دوسرے بھائی کا حق مارتا ہے اس طرح ۲۴۸ پر ایا حق لینے والا آگ کا ٹکٹ الیتا ہے ۳۶۸ آنحضرت صلی یا میکنم مدینہ تشریف لائے تو وہاں کے لوگوں نے یہ معاہدہ کیا کہ اگر مد بینہ سے باہر جنگ ہو تو اس میں لڑنے کے زیادہ نہیں پڑھ سکتا فرما یا جو پابند ہوں گے لیکن اگر مدینہ بیٹھے ہوئے تھے ایک بڑھیا آئی بات اس نے کہی ہے کر بھی لی کے اندر ہو تو دشمن کے روکنے اس نے کہا یا رسول اللہ ! کیا تو جنت میں داخل ہو گا میں جنت میں جاؤں گی فرمایا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ روزہ بڑھیا تو کوئی جنت میں نہیں جائے گی حدیث میں آتا ہے اے خدا! تو میرا بندہ میں تیرا خدا ہوں ایک دفعہ ایک صحابی کھڑا تھا ۲۴۸ ۱۷۴ کا اجر میں ہوں ۳۹۶ ۳۹۶ میں مددد بنا فرض نہ ہوگا۔یہود نے بدعہدی کی۔صحابہ نے فرمایا ہم آپ کے دائیں بھی جبریل رمضان کے مہینہ میں لڑیں گے بائیں بھی لڑیں گے قرآن مجید کا دور کرواتے کیونکہ اس میں رمضان کی ابتداء ہوئی تھی ۴۰۲ آگے بھی اور پیچھے بھی دشمن ہماری لاشوں پر سے ہوکر ہی آپ تک پہنچے گا۔۔۔۔۴۲۷ جو میرے امیر کی اطاعت کرتا آنحضرت صل اللہ السلام نے جمعہ کے آنحضرت سیل نیا اینم نے پیچھے ہے وہ میری اطاعت کرتا ہے دن خطبہ کے درمیان بولنا منع سے آکر اس کی آنکھوں پر جو امیر کی اطاعت نہیں کرتا فرما یا کسی کو خطبہ کے دوران