خطبات محمود (جلد 4) — Page 510
خطبات محمود جلد ۴ ۵۱۰ سال ۱۹۱۵ء قادیان میں ایک دفعہ وفات مسیح اور حیات مسیح پرمشق کے طور پر مباحثہ ہوا اس پر ایک شخص نے یہ کہہ دیا کہ مجھے تو اس مسئلہ میں شبہ پڑ گیا ہے۔اسی وجہ سے میں ڈبیٹ (مباحثہ ) کو نا پسند کرتا ہوں کیونکہ اس میں بھی یہی طریق ہوتا ہے۔حضرت خلیفہ المسیح الا ول بھی اس طریق کو بہت ناپسند فرماتے تھے۔کیا کوئی شخص اس بات پر ڈبیٹ کرتا دیکھا ہے کہ ایک کہے جارج پنجم بادشاہ ہے اور دوسرا کہے نہیں۔اس کی کیا وجہ ہے کہ لوگ ڈرتے ہیں۔یہی وجہ ہے اس جرم کی سزا تو اخباروں میں شائع کی جاتی ہے اور لوگوں کو یقین ہوتا ہے کہ اگر ہم نے ایسا کام کیا تو ضرور گورنمنٹ پکڑے گی اور سزا دے گی۔جب ایسی استہزاء کی باتوں پر گورنمنٹ نہیں چھوڑتی تو وہ خدا جس کی سلطنت نہایت زبردست ہے اور جس کی پولیس مخفی در مخفی ہے وہ کیونکر ایسے مجرم کو چھوڑ سکتا ہے۔ایک مبائع تو میرے سامنے بیٹھ کر یہ جرأت نہیں کر سکتا کہ وہ خلافت کے متعلق یہ بحث شروع کر دے کہ میں خلیفہ ہوں یا نہیں یا خلافت کی ضرورت ہے یا نہیں کیوں وہ میرے سامنے ایسی بات نہیں کرتا صرف اس لئے کہ مجھے وہ اپنا امام سمجھتا ہے میرا ادب کرتا ہے ہے۔تو وہ خدا جس کی حکومت وسیع ہے اس کے سامنے کیوں ایسے استہزاء اور تمسخر کے کلمات بولتے ہو۔کیا تم اس خدا سے نہیں ڈرتے۔کیا خدا کا ڈر معمولی آفیسر کے مقابلہ میں کوئی حقیقت نہیں رکھتا؟ میں دیکھتا ہوں کہ اس معاملہ میں ابھی اصلاح کی بہت ضرورت ہے اور ہمارے دوستوں کو اس طرف بہت توجہ کرنی چاہیئے۔کیا بحث و مباحثہ اور استہزاء کرنے کیلئے دوسری قومیں تھوڑی ہیں جو تم اس پر اپنے اوقات صرف کرتے ہو؟ بحث و مباحثہ سے بہت کم ہدایت اور معرفت حاصل ہوتی ہے۔یہ مولویانہ طریق ہے یہ ایمان کو جڑ سے اکھیڑ دیتا ہے کیا خدا تعالیٰ کی ہستی ، انبیاء کی نبوت مسیح موعود کی صداقت اور قرآن کریم کے انکار کرنے والے پہلے دنیا میں تھوڑے ہیں؟ انکار کرنے والی تو ساری دنیا ہے مگر اقرار کرنے والے تھوڑے ہیں۔زیادہ لوگوں میں قدر نہیں ہوتی بلکہ تھوڑے لوگوں میں قدر ہوتی ہے جاہل تو دنیا میں کروڑہا ہوں گے مگر ایم اے اور بی اے دنیا میں تھوڑے ہیں۔پھر دیکھو کن کی قدر ہوتی ہے۔ایسے ہی حقیقی اسلام یعنی احمدیت کے نام لیوا تو تھوڑے بلکہ بہت ہی قلیل ہیں لیکن اس کے منکر ساری دنیا میں پائے جاتے ہیں۔پس تم کو چاہئے کہ اپنی طبیعتوں میں وہ رنگ پیدا کرو جو صحابہ رضی اللہ عنہم میں تھا۔وہ کبھی اس قسم کے مباحثات میں نہ پڑتے تھے بلکہ جب کبھی اکٹھے ہوتے تو جو جو نکات معرفت یا کسی