خطبات محمود (جلد 4) — Page 499
خطبات محمود جلد ۴ ۴۹۹ سال ۱۹۱۵ء لوگ انہیں پاگل کہے جاتے ہیں لیکن انہیں اپنے کام سے کام ہوتا ہے۔درحقیقت پاگل کہنے والے خود پاگل اور مجنون ہوتے ہیں۔قدیم سے جماعتیں اور سلسلے بنانے والوں کو لوگ پاگل کہتے آئے ہیں۔اور تمام انبیاء اور مرسلین اور اولیاء واقطاب اور مجددین کو لوگوں نے پاگل و مجنون کہا ہے اور جن کاموں سے لوگ ڈرتے ہیں وہ ان کو کر گزرتے ہیں۔اور جن کو پاگل کہا گیا ہے آخر وہی اپنے مطالب میں کامیاب ہوئے۔حضرت نوح علیہ السلام سے لے کر حضرت نبی کریم صلی یہی تم تک اور پھر نبی کریم سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام تک جس قدر بھی راستباز خواہ وہ نبی یا رسول ہوں خواہ وہ مجد دغوث قطب ہوں سب کو لوگوں نے پاگل اور دیوانہ کہا ہے۔مکہ جیسی بستی میں جو شرک اور بیدینی میں اس قدر حد سے گزرگئی ہے تھی گویا شرک میں ڈوبی ہوئی تھی اور جن کی زندگی کا انحصار ہی بت پرستی پر تھا اور ایسی خونخوار و بت پرست قوم جس کی نظیر آج ہندوؤں میں بھی نہیں پائی جاتی کیونکہ وہ لوگ سفر کو بھی جاتے تو آٹے کا بت بنا کر پنے ساتھ رکھتے تھے پھر ایسی ظلمت کے وقت میں نبی کریم کا ظہور ہونا کیسے خطرے کا مقام تھا اور پھر باوجود اس کے آپ کے پاس نہ کوئی سپاہ تھی اور نہ کوئی لشکر تھا تو آپ نے ایسے وقت میں کھڑے ہو کر کہا کہ میں تمہارے بتوں کو باطل کر دوں گا اور شرک کو جزیرہ عرب سے نکال دوں گا۔جو میرے مقابلہ میں اٹھے گا وہ تباہ و ہلاک ہو جائے گا وہ رسوائی اور نامرادی کامنہ دیکھے گا۔ایسی حالت کو دیکھ کر ایک دنیا دار انسان مجنون اور دیوانہ ہی کہے گا اور لوگوں نے کہا اور اس وقت بھی خدا کی طرف سے ایک آواز آئی لیکن لوگوں نے اسے بھی مجنون اور دیوانہ ہی کہا۔پیچھے آنے والے لوگ یہی کہا کرتے ہیں کہ لوگوں نے انبیاء سابقین مرسلین اور مجددین کو کیونکر پاگل کہا۔حالانکہ جس طرح پہلے لوگوں نے صادقین کو پاگل کہا اسی طرح یہ لوگ بھی حضرت مسیح موعود کو پاگل ہی کہتے ہیں۔اور جو اعتراض پہلے لوگ کرتے تھے وہی اب یہ لوگ کرتے ہیں۔الغرض یہ سلسلہ ہمیشہ سے ایسا ہی چلا آیا ہے اور صداقتوں کے راستہ میں روکیں آتی ہی رہی ہیں۔لیکن بے استقلال اور بے ہمت انسان ایسے وقت میں اپنے آپ کو علیحدہ کر لیتے ہیں اور کام کرنے کے وقت بے استقلالی سے کام کرتے ہیں۔ہاں ناممکن کاموں میں پڑنے والے پاگل ہوتے ہیں لیکن ایسے کاموں میں پڑنے والا جو انسانی تدابیر کے ماتحت ہوں اور جن کے کرنے سے بظاہر امید بھی نظر آتی ہو تو ایسے امور میں پڑنے والے کو لوگ