خطبات محمود (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 487 of 574

خطبات محمود (جلد 4) — Page 487

خطبات محمود جلد ۴ ۴۸۷ سال ۱۹۱۵ء لیکن قرآن شریف خدا تعالیٰ کا کلام ہے اس لئے اس میں کوئی فقرہ تو الگ رہا کوئی لفظ بھی زائد نہیں ہوسکتا اور لفظ تو بڑی بات ہے کوئی زبر زیر اور پیش بھی زائد نہیں ہو سکتی۔بلکہ ہر ایک لفظ ان ہی حرکات سے استعمال ہوتا ہے جو اس کیلئے ضروری اور لازمی ہیں اور انہیں کا ہونا حکمت الہی پر مبنی ہے کیونکہ جیسے خدا تعالیٰ کی بنائی ہوئی تمام چیزوں میں سے کوئی چیز بھی لغو نہیں خواہ وہ کسی کو کیسی ہی رڈی سے رڈی اور زائد معلوم کیوں نہ دے۔ایسی چیز پر بھی جب غور اور فکر کیا جائے تو معلوم ہو جاتا ہے کہ لغو اور فضول نہیں بلکہ نہایت ہی کار آمد اور مفید ہے اور اس کے کلام کا کوئی فقرہ یا کوئی حرکت کیونکر زائد اور بلا ضرورت ہو سکتی ہے۔بہت سی چیزیں اس وقت ایسی موجود ہیں جن کو آج سے کچھ عرصہ پہلے رڈی اور فضول سمجھا گیا تھا مگر اس زمانہ میں علوم کی ترقی سے ثابت ہو گیا ہے کہ وہ رڈی اور فضول نہیں بلکہ بڑے بڑے فوائد اور منافع اپنے اندر رکھتی ہیں۔بڑی سے بڑی نجس اور رڈی چیز تو انسان کا پاخانہ اور پیشاب خیال کیا جا تا تھا لیکن اسی کو اگر دیکھو تو معلوم ہو جاتا ہے کہ انسان غلہ کو کھا کر جب اس سے جو کچھ اس کیلئے مفید ہوتا ہے حاصل کر لیتا ہے اور فضلہ کو ڈی بنا کر نکال دیتا ہے تو یہی ردی چیز آئندہ سال جو اس کو کھانا ہوتا ہے اس کی پرورش میں محمد اور معاون بن جاتی ہے اور کھاد بن کر ایک مفید چیز ثابت ہوتی ہے جو ہزاروں بلکہ لاکھوں روپوں کی فروخت ہوتی ہے۔تو وہی چیز جس کو انسان نے ردی کر کے پھینک دیا تھا خدا تعالیٰ نے اسی کو اس کیلئے غلہ پیدا کرنے کا سامان بنادیا۔اس کے علاوہ اور چھوٹی چھوٹی چیزوں مثلاً کاغذوں کے ٹکڑوں اور گھاس پھونس کے تنکوں کو ہی دیکھ لو۔ان چیزوں کو کسی مصرف کا خیال نہیں کیا جاتا تھا۔لیکن علوم سے واقف کار لوگوں نے ان سے بھی بڑے بڑے کام لئے ہیں۔مثلاً مختلف قسم کی گھاس جو جانوروں کے کھانے کے کام بھی نہیں آتی اور جس سے جنگل کے جنگل بھرے پڑے رہتے تھے اور جسے لوگ لغوا اور فضول چیز سمجھا کرتے تھے، اس کو آج علوم نے بہت فائدہ مند ثابت کر دیا اور بتادیا ہے کہ یہ لغو نہیں بلکہ نہایت کارآمد ہے کیونکہ اس سے کاغذ جیسی مفید چیز بنے لگی ہے۔کیونکہ پہلے اس سے انسانوں کو کام لینے کا موقع نہ ملا تھا اس لئے انہوں نے لغو سمجھا ہوا تھا لیکن علوم نے آخر ترقی کرتے کرتے بتا دیا کہ یہ بہت مفید چیز ہے۔پس یہی گھاس اس زمانہ میں علوم کے بڑھانے کا بہت بڑا ذریعہ ہو رہی ہے۔پہلے زمانہ میں چونکہ کاغذ کی کثرت نہ تھی