خطبات محمود (جلد 4) — Page 467
خطبات محمود جلد ۴ ۴۶۷ سال ۱۹۱۵ء نہ انہوں نے خدا کی فرمانبرداری کی اور نہ عزت مال اور دولت حاصل ہوئی پس ان کا نہ دین رہا اور نہ دنیا۔اب بعض جگہ ہماری جماعت کو یہ مشکلات پیش آ رہی ہیں کہ ہمارے لوگ چاہتے ہیں کہ لڑکیوں کو حصہ دیں اور رسم و رواج کو چھوڑ کر شریعت پر عمل کریں تو غیر احمدی انہیں روکتے ہیں اور قانون کی رو سے مجبور کرتے ہیں کہ وہ ایسا نہ کریں۔اس کی وجہ سے احمدی جماعت کا کثیر حصہ پوری آزادی سے شریعت پر عمل نہیں کر سکتا۔اس وقت ایک موقع ہے۔گورنمنٹ نے یہ سوال اٹھایا ہے کہ پنجاب میں جس قدر رواج ہیں وہ سب قوموں سے پوچھ کرلکھ لئے جاویں۔پھر قانون سرکاری کے علاوہ دیگر امور میں ان ہی کے ماتحت تمام فیصلے کئے جایا کریں اور یہ قانون کی طرح ہوں اس کے متعلق کارروائی شروع ہے۔شملہ میں ایک کانفرنس اسی غرض کیلئے مقرر ہوئی ہے کہ وہ اس بات کا فیصلہ کرے کہ کیا کیا رواج ہیں ، وائسرائے کی خدمت میں رپورٹ کرے۔اس موقع پر ہماری جماعت کے لوگوں کو چاہیے کہ ان مشکلات کو جو ان کے رستہ میں حائل ہیں دور کروانے کی کوشش کریں اور وہ اس طرح کہ تمام جماعت ایک میموریل تیار کرے۔اس میں لکھا جائے کہ ہمارا رواج وہی ہے جو شریعت اسلام ہے اور اسی کا فیصلہ ہمیں منظور ہے۔ہمارے تمام فیصلے اسی کے ماتحت ہوں اور مختلف فيها مسائل میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا فیصلہ یا اپنی جماعت کے علماء کا فیصلہ منظور ہو گا اس طرح یہ دقت دور ہو جائے گی۔بہت سے لوگ ہمیں لکھتے ہیں کہ ہم لڑکیوں کو حصہ دینا چاہتے ہیں لیکن مجبور ہیں کچھ کرنہیں سکتے کیونکہ دیگر رشتہ دار جوغیر احمدی ہیں وہ روکتے ہیں اس لئے رواج کے مطابق ہی کرنا پڑتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے ہمیں ایک موقع دیا ہے اس کے متعلق تمام جماعت کے لوگ اپنے طور پر دستخط کر کے یا انگوٹھے لگا کر ہمارے پاس بھیج دیں اور یہ کا غذات ہمارے پاس تیار رہیں جس وقت مناسب موقع ہوگا پیش کر دیئے جائیں گے۔اگر ہماری جماعت اس پر عمل درآمد کرنا شروع کر دے گی تو یہ لوگوں کیلئے ایک نمونہ ہوگا اور جو شخص اپنے عمل سے کسی کو ہدایت دیتا ہے اسے اپنے متبع کا بھی ثواب ملت ہے اس کا ثواب کم نہیں ہوتا مگر جس کے ذریعہ ہدایت ہوتی ہے اسے بھی ثواب ملتا ہے۔اگر ہماری جماعت میں یہ بات شروع ہو جائے کہ تقسیم وراثت شریعت کے مطابق ہو اور دوسرے لوگ یہ بات دیکھ لیں کہ شریعت پر عمل کرنے سے کوئی تباہ نہیں ہوتا بلکہ ترقی کرتا ہے تو انہیں