خطبات محمود (جلد 4) — Page 461
خطبات محمود جلد ۴ ۴۶۱ سال ۱۹۱۵ء دیا جائے مگر باوجود اس کے مسلمانوں کو قانون جومل گیا ہے اگر نہ دیا جائے تو حرج نہیں اس لئے ہے کریں۔اسی طرح مولوی محمد علی صاحب کو کسی وکیل نے قانون بتادیا ہے کہ باوجود اس کے کہ تم نے ہیں ہزار روپیہ انجمن کا کھایا ہے لیکن پھر بھی تم انجمن کا ترجمہ ہضم کر سکتے ہو اس لئے وہ کہتے ہیں کہ ہم ترجمہ نہیں دیتے۔اب سوال یہ ہے کہ ان کو تو قانون ملا ہے اور ہمارے بھی خدا کے فضل سے قانون دان ہیں وہ کہتے ہیں کہ مولوی صاحب بڑی آسانی سے پکڑے جاسکتے ہیں۔یہ تو قانون دیکھیں گے یا گورنمنٹ فیصلہ کرے گی کہ ان کا چودھری زیادہ قانون دان ہے یا ہمارا لیکن پہلا سوال یہ ہے کہ ہمیں کوئی قانونی کارروائی کرنی بھی چاہیے یا نہیں۔پیچھے تو یہ معاملہ اس لئے رہ گیا تھا کہ کسی اور طریق سے فیصلہ کر لیا جائے پھر یہ بھی خیال تھا کہ مولوی صاحب کہتے ہیں کہ ابھی ترجمہ کا کام کر رہا ہوں شاید کچھ عرصہ کے بعد مان جائیں۔لیکن اب مسلم انڈیا میں اشتہار چھپا ہے کہ جلدی قرآن کا ترجمہ شائع کیا جائے گا اس لئے اب اس بات کا جلدی فیصلہ کرنا چاہیئے کہ آیا وہ میں ہزار روپیہ جو اس کام پر خرچ ہوا ہے اور مولوی صاحب اسی کیلئے ملازم رکھے گئے تھے اس کا کیا کیا جائے؟ یہ تو ہے نہیں کہ انہوں نے ٹھیکہ پر کام کیا ہے اس لئے اب کہہ دیں کہ اپنا روپیہ لے لو ہم کام نہیں دیتے۔انہیں تو ملازم رکھا گیا تھا اور ملازم کی اور حیثیت ہوتی ہے ٹھیکہ دار کی اور۔مثلاً ایک آدمی کو روپیہ دیا جائے کہ فلاں چیز بناؤ۔گو اس کی ایمانداری اسی میں ہے کہ بنادے لیکن وہ ایسا بھی کر سکتا ہے کہ چیز بنا کرکسی اور کو دے دے اور روپیہ واپس کر دے۔شریعت کے تو یہ خلاف ہے۔لیکن وہ بہانہ وغیرہ کر سکتا ہے۔لیکن ایک ملازم جو ہر صبح و شام اسی روپیہ سے کھانا حلق سے اُتارتا ہے جو اسے تنخواہ میں دیا جاتا ہے وہی کپڑا پہنتا ہے جو تنخواہ کے ذریعہ حاصل کرتا ہے وہ کوئی بہانہ نہیں بنا سکتا کہ جو کام میں کر رہا ہوں وہ میرا اپنا ہے۔لیکن سوال یہ ہے کہ ان سے یہ ترجمہ لیں یا نہ لیں؟ لینے کیلئے تو ہم بظاہر اس لئے مجبور ہیں کہ اس پر سلسلہ کا روپیہ خرچ ہوا ہے اگر ترک کیا جائے تو یہ سلسلہ کی خیانت نہ ہو لیکن اور پہلو بھی ہے وہ یہ کہ اسلام کی تاریخ سے بہت سے ایسے واقعات معلوم ہوتے ہیں کہ بعض لوگوں نے خیانتیں کیں ، فساد اور شرارت پھیلائی ، عداوت اور بغض میں بڑھ گئے مگر انبیاء کے سلسلہ نے یہی طریق اختیار کیا ہے کہ چشم پوشی کی ہے اور اللہ تعالیٰ پر بھروسہ رکھا ہے۔ان سے جہاں تک ہو سکا خیانت کو وصول کرنے اور شر و فساد کے دور کرنے کی کوشش کی ہے لیکن سزا دہی کیلئے