خطبات محمود (جلد 4) — Page 440
خطبات محمود جلد ۴ ۴۴۰ سال ۱۹۱۵ء کیونکہ ایک سچائی دوسری سچائی کو قبول کرنے کیلئے رستہ صاف کرتی ہے۔چنانچہ آپ پر جو کلام اترا، اس کو مان کر اور نبیوں کا ماننا بھی ضروری ہوتا ہے۔مثلاً ایک ہندو جو حضرت موسی عیسی ، ابراہیم (علیہ السلام ) کو جھوٹا سمجھتا ہے جب آنحضرت سینی سیتم کی سچائی پر ایمان لاتا ہے تو ساتھ ہی یہ بھی مان لیتا ہے کہ یہ سب خدا کے سچے رسول تھے۔پھر وَبِالآخِرَةِ هُمْ يُوقِنُونَ جب پہلے کلاموں پر یقین ہو جائے تو یقینا اس بات کو بھی مانا پڑتا ہے کہ خدا کی کوئی صفت معطل نہیں ہوتی۔جس طرح وہ پہلے کلام کرتا تھا ویسے ہی اب بھی کرتا ہے اسی طرح آنے والے کلام پر یقین حاصل ہو جاتا ہے قرآن شریف سے معلوم ہوتا ہے کہ جو قوم نبی کی تعلیم کو بھول کر تباہ و برباد ہوگئی وہ وہی ہے جس نے یہ کہا کہ اب کوئی نبی نہیں آئے گا۔لیکن پہلی کتابوں پر ایمان لانے کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ آنے والے کلام پر بھی ایمان لایا جائے۔یہی وجہ ہے کہ حضرت عائشہ نے پہلے ہی کہہ دیا کہ قُولُوا اِنَّهُ خَاتَمُ الأَنْبِيَاءِ وَلَا تَقُولُوا لَا نَبِي بَعْدَد۔یہ تو کہو کہ رسول اللہ انبیاء کے خاتم ہیں لیکن یہ نہ کہو کہ آپ کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔کیونکہ آپ پر ایمان لانے کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ خدا جو ہمیشہ سے اپنی مخلوق کی ہدایت کیلئے نبی بھیجتا آیا ہے، کیا ممکن ہے کہ کسی کو نبوت کے قابل سمجھ کر اس پر فائز نہ کرے۔اور آئندہ کیلئے کلام کرنا بند کر دے۔پس اگر پچھلی کلام پر یقین آجائے تو آئندہ پر ضرور ایمان حاصل ہو جاتا ہے۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے أُولَئِكَ عَلَى هُدًى مِّن رَّبِّهِمْ یہی وہ لوگ ہیں جو سچی ہدایت پر ہیں ان کے کے سوا اور کوئی نہیں۔اور صرف یہی وہ ہدایت ہے جو انسان کو کامیاب کر دیتی ہے کیونکہ جب یہ یقین ہو جائے کہ خدا کی طرف سے کلام نازل ہوتا ہے اور خدا تعالیٰ یہ انعام دے سکتا ہے تو انسان محنت بھی کرے گا۔میں نے خود حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے سنا ہے هُدًى لِلْمُتَّقِينَ کے آپ یہ معنے فرماتے کہ متقی وہ ہوتا ہے جو ایک حد تک اعمال کرے اور مدار شریعت احکام کو پورا کرے۔ھدی للْمُتَّقِينَ سے یہ مطلب ہے کہ پھر اللہ تعالیٰ متقی سے بڑھا کر اوپر کے درجہ پر لے جاتا ہے اور متقی کے بعد یہ درجہ ہوتا ہے کہ خدا اس سے کلام کرتا ہے یعنی وحی کا دروازہ اس پر کھولا جاتا ہے۔پس جب انسان کو یہ یقین ہو جائے کہ وحی کا دروازہ کھولا جائے گا تو وہ کوشش بھی کرے گا۔اور جس کو یہ امید ہی نہ ہو وہ نہیں کرے گا۔مثلاً ایک آدمی کو یقین ہو کہ فلاں مکان پر فلاں چیز ہوگی تو وہ وہاں جائے گا