خطبات محمود (جلد 4) — Page 431
خطبات محمود جلد ۴ ۴۳۱ سال ۱۹۱۵ء جماعت کیلئے نمونہ موجود ہے اگر پہلے غیروں کے نمونے تھے تو اس وقت ان لوگوں کا نمونہ ہے جو جماعت پر بڑا اثر رکھنے والے تھے۔انہوں نے اپنی تدبیروں سے بڑا بننا چاہا لیکن خدا نے نہ چاہا۔اس لئے جس وقت انہوں نے سمجھا کہ اب پھل تیار ہو گیا ہے منہ میں ڈال لیں، اُسی وقت خدا نے ان سے چھین لیا۔پس تم خوب یاد رکھو کہ دین کی عزت کوشش سے نہیں ملتی بلکہ اسی کیلئے ہوتی ہے جو اللہ کیلئے اپنے آپ کو ذلیل کرے اور اللہ کیلئے رسوائی کو قبول کرے جو ایسا نہیں کرتا وہ کبھی عزت نہیں پاسکتا۔ہمیں کام کرنے والے انسان چاہئیں اگر کسی کام کرنے والے میں کوئی نقص ہے تو بجائے اس کے کہ اسے توڑنے کی کوشش کی جائے خود اس کی مدد کیلئے کھڑا ہونا چاہیئے۔اگر کسی گھر کی دیوار گرنے لگے تو جب تک بالکل ہی مایوسی نہ ہو جائے اس کے نیچے ستون رکھے جاتے ہیں لیکن کس قدر افسوس ہے کہ دین کے کاموں میں یہ کوشش کی جائے کہ جس میں کوئی نقص ہو اُسے توڑ دیا جائے۔توڑنے کی اُس وقت ضرورت پڑتی ہے جبکہ اس کے کام آنے کی کوئی امید نہ رہے۔اگر کسی میں کمزوری ہے تو اس کی مدد کرو۔اگر کوئی تھوڑا کام کر سکتا ہے تو اس کے ساتھ مل کر کام پورا کر دو لیکن جو یہ چاہتا ہے کہ دوسروں کو ذلیل کر کے آپ عزت حاصل کرے وہ ذلیل ہو جائے گا۔پہلوں کیلئے یہی بات ٹھوکر کا موجب ہوئی ہے اب بھی اگر کوئی اس طرح کرے گا تو خدا اس کو بھی نکال دے گا۔خدا کو نہ ان کی پرواہ تھی اور نہ اب کسی کی ہے۔ہمارا سلسلہ نہ پہلے بندوں کے سہارے چلا ہے اور نہ اب چلے گا۔پہلے بھی خدا ہی چلاتا تھا اور اب بھی خدا ہی چلائے گا۔وہ جو خیال رکھتے ہیں کہ ہم پریذیڈنٹ یا سیکرٹری بنائے جائیں یا صرف اعتراضوں میں لگے رہتے ہیں وہ یا درکھیں کہ خدا نے ایک عبرت کا نمونہ دکھا دیا ہے۔اب بھی اس کا کوئی ہاتھ نہیں پکڑ سکتا، وہ اب بھی وہی نمونہ دکھا سکتا ہے۔یہ دین کا معاملہ ہے اس میں تمہیں بہت پھونک پھونک کر قدم رکھنا چاہئیے۔جب خدائی غیرت بھڑکتی ہے تو پھر یہ نہیں دیکھتی کہ فلاں بڑا ہے اور فلاں چھوٹا۔جو کوئی بھی اس کے دین کے رستے میں روک ہوتا ہے اس کو نکال پھینکتی ہے۔پس ایسے خیال اپنے دلوں سے نکال دو اور خدا کیلئے ذلت اور رسوائی برداشت کرنے کو تیار رہو۔اس بات کیلئے تیار رہو کہ لوگ تم سے بدسلوکی کریں۔تم حقیر سمجھے جاؤ کیونکہ جو خدا کیلئے ذلیل ہوتا ہے وہ عزت پاتا ہے اور جو خدا تعالیٰ کے کاموں کی پرواہ نہیں کرتا وہ ذلیل ہو جاتا ہے۔خدا تعالیٰ ہماری جماعت۔