خطبات محمود (جلد 4) — Page 35
خطبات محمود جلد ۴ ۳۵ سال ۱۹۱۴ء رہ سکتا ہے۔جو ایسا نہیں کرتے ان کو خدا تعالیٰ پر پورا پورا ایمان نہیں ہے۔نبی کریم صلی سی ایم نے جب اپنا دعویٰ کیا تو سب سے زیادہ خطر ناک بات جس کی لوگوں نے سخت مخالفت کی وہ لَا اِلهَ إِلَّا الله کا پیش کرنا تھا۔وہ لوگ مُحمدٌ رَسُولُ اللہ کو ماننے کو تیار تھے مگر لا إلهَ إِلَّا اللہ کو وہ نہیں مانتے تھے۔چنانچہ وہ لوگ آپ کے پاس آئے اور آکر عرض کیا کہ اگر آپ کو حکومت کا شوق ہے تو ہم آپ کو اپنا بادشاہ بنانے کو تیار ہیں اور اگر آپ کو مال کی خواہش ہے تو ہم اتنا مال جمع کر سکتے ہیں جتنا تم چاہو اور اگر شادی کرنا چاہوتو ہم تم کو خوبصورت سے خوبصورت بیوی لا دیتے ہیں اور اگر تم بیمار ہو تو آپ کا علاج کروانے کو تیار ہیں۔تو نبی کریم سنای ایتم نے فرمایا کہ سورج اور چاند اگر میرے دائیں بائیں لا کر رکھ دیئے جاویں تو بھی میں لا إله إلا اللہ کی تعلیم سے نہیں رک سکتا ہے۔ان لوگوں کی مخالفت صرف لا إلهَ إِلَّا الله کے سبب سے تھی۔وہ بتوں کے پجاری تھے اور بت بنا بنا کر بیچا کرتے تھے اور وہ ان کے رزق کا ایک ذریعہ بنے ہوئے تھے۔وہ اس لا اله الا اللہ کی تعلیم سے بڑھ کر کوئی اور خطرناک بات نہیں سمجھتے تھے۔وہ سمجھتے تھے کہ اگر ہم نے اس تعلیم کو مان لیا تو ہمار استیا ناس ہو جائے گا تو جس شخص کا یہ حال ہے وہ کیوں مخالفت نہ کرے گا۔تو ایسی حالت میں جبکہ نبی کریم صلی یا کہ تم اکیلے تھے اور باوجود اس کے کہ تمام عرب مخالف تھا، آپ اس کہنے سے نہیں رکے اور آخر کار کامیاب و مظفر ومنصور ہو گئے۔پس جو شخص پھر ایسا ہو جاوے لوگ اس کا کچھ بگاڑ نہیں سکتے۔اور جو شخص ایسا نہیں ہے اور وہ جماعت میں داخل نہیں ہوتا اس کا اللہ سے کوئی تعلق نہیں ہوتا جب تک کہ وہ بیعت کر کے جماعت میں داخل نہ ہو جاوے اس قطع تعلق کا نقصان ان کی اپنی جانوں پر ہے اور کسی کو اس کا نقصان نہ ہوگا۔ظاہری دشمن کا مقابلہ آسان ہوتا ہے کھنچی ہوئی تلوار کا مقابلہ انسان آسانی سے کر سکتا ہے مگر زہر کی پڑیا کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔تلوار سے تو وہ بھاگ سکتا ہے اس کا مقابلہ کر سکتا ہے مگر زہر کی پڑیا کا اس کو کچھ پتہ نہیں لگ سکتا۔اسی طرح منافق انسان ہے وہ ایک زہر کی پڑیا کی طرح جس کو انسان نہیں جانتا کہ میرے کھانے میں ملی ہوئی ہے۔وہ کہتے ہیں کہ ہم مصلح ہیں اور ہم صلح جو اور صلح گن ہیں اور ہم نے دونوں فریق سے صلح رکھی ہوئی ہے۔فسادی تو تم ہو کہ خواہ مخواہ ایک جماعت کو الگ کر کے لوگوں سے لڑائی کرتے ہو۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے یہ سخت مفسد ہیں۔یہ آپس میں لڑائی اور فساد ڈلواتے