خطبات محمود (جلد 4) — Page 401
خطبات محمود جلد ۴ ۴۰۱ سال ۱۹۱۵ء سُبُلنا - ۵ے۔جو لوگ خواہ کسی مذہب کے ہوں اگر ہمارے راستہ میں کوشش کریں تو ہم انہیں راہ دکھا دیتے ہیں۔تو قرآن کریم دنیا کی ہدایت کے لئے آیا اور ایسے وقت میں آیا جبکہ مخالف بڑ۔زوروں پر تھے مگر باوجود اس کے خدا تعالیٰ نے اس کی حفاظت کی اور وہ لوگ جنہوں نے اس سے تعلق رکھا کامیاب ہو گئے اور کوئی ان کا مقابلہ نہ کر سکا اور یہ زندہ ثبوت کے طور پر چلا آیا ہے۔اس زمانہ میں بھی یہی ہدایت جس کو ملی اسے ایسے بلند مقام پر لے گئی کہ بلند سے بلند دشمن کا ہاتھ اس سے بہت نیچے رہ گیا اور جس نے اس پر تھو کا اس کے منہ پر ہی پڑا۔جس نے اس کی طرف خاک اُڑائی اس نے اپنے ہی اوپر اُڑائی۔پس ایسی کتاب کے ہوتے ہوئے جس کے مقابلہ میں کوئی مذہب کوئی کتاب، کوئی تعلیم نہیں ٹھہر سکتی مسلمان دوسری کتابوں کی طرف متوجہ ہوں تو کتنا تعجب ہے۔اس زمانہ میں مسلمانوں کی تباہی کی یہی وجہ ہے کہ انہوں نے قرآن کو چھوڑ دیا ہے۔اول تو پڑھتے ہی نہیں اور اگر پڑھتے ہیں تو رسمی طور پر۔ان کی مثال ایسی ہے کہ کنواں گھر میں ہوتے ہوئے کوئی پیاسا ہو، کپڑے ہوتے ہوئے ننگا ہو، کھانا ہوتے ہوئے بھوکا ہو، درخت کے پاس بیٹھے ہوئے دھوپ میں جل رہا ہو۔چونکہ مسلمانوں نے ہے اپنے مذہب کو چھوڑ دیا اس لئے اس کے نتیجہ میں دکھ مصیبتیں اٹھانے لگے اور ایسے رسوا اور ذلیل ہو گئے کہ دنیا نے ان کی رسوائی کو ان کے مذہب کا نتیجہ قرار دے دیا لیکن اگر وہ قرآن پر غور و تدبر اور اس پر عمل کرتے تو ان پر کوئی غالب نہیں آسکتا تھا۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے أُولئِكَ عَلَى هُدًى مِّن ربهم وأولئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ۔اسلام کے اعلیٰ سے اعلیٰ مدارج تو الگ رہے قرآن کے مطابق عمل کرنے والے پر بھی کوئی غلبہ نہیں پاسکتا۔ہمارے زمانہ میں خدا نے اپنا فضل کر کے ایک انسان مبعوث فرمایا جس نے ادھر ادھر سے لوگوں کو اکٹھا کر کے قرآن کی تعلیم پر عمل کرنا سکھایا پس ہماری جماعت کو اس کی قدر کرنی چاہیئے کہ یہ تعویذ جس گھر میں ہو شیطان اس میں داخل نہیں ہو سکتا اور جس کے پاس ہو اس پر حملہ نہیں کر سکتا۔بھلا ممکن ہے کہ جہاں شیر ہو وہاں گیدڑ داخل ہو سکے اسی طرح ممکن نہیں کہ جہاں قرآن ہو وہاں باطل گھس سکے۔جس کے دل میں قرآن کے معارف ہوں اس میں شیطان ہر گز نہیں گھسے گا اور وہ جس کے دل میں شیطان وساوس اور بد عقائد پیدا کرتا ہے، یقینا یقینا اس کے دل میں کوئی کو نہ ایسا ہے جس میں قرآن نہیں ہے اس لئے