خطبات محمود (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 396 of 574

خطبات محمود (جلد 4) — Page 396

خطبات محمود جلد ۴ ۳۹۶ سال ۱۹۱۵ پس وہ لوگ جن پر خدا تعالیٰ نے فضل کیا ہے کہ اول تو انہیں مسلمان بنایا۔دوسرے اتنی سمجھ دی کہ روزہ کی غرض کو سمجھیں۔تیسرے اتنی صحت دی کہ روزہ رکھ سکیں چوتھے اتنی عمر دی کہ ایک اور رمضان کی برکات حاصل کر سکیں۔ان پر اللہ تعالیٰ کا بہت ہی شکر کرنا واجب ہے۔یہ مہینہ اپنے ساتھ بڑی بڑی برکتیں لایا کرتا ہے پہلی عظیم الشان برکت تو یہی ہے کہ جن لوگوں کو ستی اور کاہلی کی وجہ سے سارا سال نماز تہجد نصیب نہیں ہوتی اس مہینہ میں نصیب ہو جاتی ہے اور وہ لوگ جو صبح کی نماز سورج چڑھنے کے قریب پڑھتے ہیں ، ان کو بھی موقع مل جاتا ہے کہ رات کے وقت خدا تعالیٰ کی عبادت کریں اور تہجد پڑھیں۔چونکہ سب لوگ سحری کو اُٹھتے ہیں اس لئے ست آدمی بھی اُٹھ کھڑے ہوتے ہیں ، یوں اگر انہیں اٹھایا جائے تو کئی بہانے کریں۔اصل بات یہ ہے کہ تجربہ سے معلوم ہوا ہے کہ شور وغل میں نیند پورے طور پر نہیں آتی۔رمضان کے مہینہ میں چونکہ عام طور پر لوگ اٹھتے ہیں اس لئے کاہل بھی اُٹھ بیٹھتے ہیں اور تہجد پڑھنے کا انہیں موقع مل جاتا ہے۔گو تہجد نوافل سے ہیں اور رمضان کے روزے فرائض سے۔بہت سی طبائع ایسی ہوتی ہیں کہ فرائض تو ادا کر لیتی ہیں اور نوافل میں سستی کرتی ہیں۔اور ایسا آج ہی نہیں کیا جاتا حدیثوں سے معلوم ہوتا ہے کہ آنحضرت سالی یتیم کے زمانہ میں بھی ایسا کرنے والے موجود تھے۔چنانچہ ایک حدیث میں آیا ہے کہ ایک شخص نے آنحضرت مسی یا یہ تم کی خدمت میں حاضر ہو کر سوال کیا۔کہ یارسول اللہ! کتنی نمازیں فرض ہیں۔آپ نے فرمایا ایک دن رات میں پانچ۔پھر اس نے پوچھا۔زکوۃ۔آپ نے فرمایا۔سال میں ایک دفعہ۔پھر اس نے روزہ کے متعلق پوچھا۔آپ نے فرمایا سال میں ایک مہینہ۔پھر حج کے متعلق پوچھا۔فرمایا عمر میں ایک دفعہ۔یہ سن کر اس نے کہا۔خدا کی قسم! میں اسی طرح کروں گا نہ اسے کچھ بڑھاؤں گا اور نہ کم کروں گا۔آنحضرت سال یہ تم نے فرمایا کہ یہ بات جو اس نے کہی ہے اگر کر بھی لی تو جنت میں داخل ہو جائے گا سے تو معلوم ہوا کہ اُس وقت بھی ایسے لوگ تھے اور ایسی طبائع ہمیشہ سے چلی آتی ہیں۔تہجد چونکہ فرض نہیں اس لئے اس کے پڑھنے میں سستی کی جاتی ہے۔روزہ چونکہ فرض ہے اس لئے اس کیلئے سحری کو اٹھنا پڑتا ہے اور ساتھ ہی نفل پڑھنے کی توفیق مل جاتی ہے۔اور یہ ثواب بھی حاصل ہو جاتا ہے۔دوسری برکت روزہ کا ثواب ہے اس کی نسبت اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ روزہ دار کا اجر میں ہی ہوں ہے۔پھر اور بہت سے فوائد ہیں ، انسان بہت سی ہلاکتوں اور تکلیفوں سے بچ جاتا ہے۔