خطبات محمود (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 385 of 574

خطبات محمود (جلد 4) — Page 385

خطبات محمود جلد ۴ ۳۸۵ سال ۱۹۱۵ء سے دنیاوی حاکموں کو کچھ بھی نسبت نہیں اس کے حضور شرف پانے کیلئے کس قدر کوشش اور ہمت کرنی چاہئے۔پھر جس آدمی کو ایک دفعہ بادشاہ سے ملاقات کا موقع مل جائے وہ اس خبر کو اپنی عزت کا باعث سمجھ کر اخباروں میں چھپواتا ہے لیکن کیسا خوش نصیب اور عزت والا ہے وہ انسان جس کو خدا تعالیٰ کے حضور حاضری کا موقع ملے۔دنیاوی لحاظ سے ہماری گورنمنٹ حاکم ہے اور ہم محکوم ، وہ آتا ہے ہم خادم، وہ سرکا ر ہے ہم رعا یا اور ہمیں قرآن شریف یہ حکم دیتا ہے کہ اس کی فرمانبرداری کریں مگر اس سے بھی اعلیٰ ایک اور ایسی حکومت ہے جس کے حضور ہم اور یہ مساوی ہیں کیونکہ وہ ایسا زبردست بادشاہ ہے جس کے آگے دنیا کے زبر دست سے زبر دست بادشاہ ماتھا رگڑتے ہیں اور طاقتور سے طاقتور حکمران گردنیں جھکا دیتے ہیں اور ان کو سوائے اس کے اور کوئی چارہ نہیں ہوتا کہ اس کے آگے اپنی پیشانی رکھ دیں۔انگلستان کے ایک بادشاہ کا قصہ لکھا ہے کہ وہ اپنے مصاحبین کے ساتھ سمندر کے کنارے بیٹھا تھا اسے خوشامدی حاشیہ نشینوں نے کہا کہ آپ کی حکومت بحر و بر (خشکی و تری ) سب جگہ ہے آپ اتنے وسیع ممالک پر حکمران ہیں وغیرہ وغیرہ ابھی یہ باتیں ہوہی رہی تھیں کہ سمندر کا پانی کنارے پر چڑھنا شروع ہوا۔انہوں نے بادشاہ سے کہا کہ آپ کرسی ہٹالیں کیونکہ پانی قریب آرہا ہے۔بادشاہ نے کہا نہیں میں پانی کو حکم دیتا ہوں کہ پیچھے ہٹ جائے۔انہوں نے کہا کبھی ایسا ہوسکتا ہے؟ بادشاہ نے کہا تم تو ابھی کہہ رہے تھے کہ خشکی اور سمندر پر تمہاری حکومت ہے اگر میری حکومت سمندر پر ہوتی تو پانی میرا حکم کیوں نہ مانتا۔پس کوئی کتنا بڑا کیوں نہ ہو احکم الحاکمین کے آگے سجدہ کرتے ہی بنتی ہے ورنہ ای تباہ و برباد ہو جاتا ہے۔چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ بڑے بڑے بادشاہوں نے جب خدا تعالیٰ کی نافرمانی کی تو خدا نے ان کو ایسا ت جھکا یا کہ ان کا نام ونشان مٹ گیا۔دیکھو فرعون جو موسیٰ علیہ السلام کے مقابلہ میں اٹھا اور اس کی کتنی بڑی طاقت تھی اس کے مقابلہ میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کی کیا حالت تھی۔وہ بڑے مال و اموال کا وارث تھا، وہ بڑی ہے دولت اور حکومت قبضہ میں رکھتا تھا، وہ مصر ایسے ملک پر حکمران تھا جس میں دریائے نیل بہتا ہے اور جس کی وادیاں دنیا بھر میں زرخیز بھی جاتی ہیں، وہ شام اور افریقہ کے تمام آباد حصوں پر رعب رکھتا تھا لیکن حضرت موسیٰ “ وہ تھے جنہیں بیوی حاصل کرنے کے لئے بھی دس سال تک ایک شخص کی بکریاں چرانا پڑیں۔وہ فرعون