خطبات محمود (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 368 of 574

خطبات محمود (جلد 4) — Page 368

خطبات محمود جلد ۴ ۳۶۸ سال ۱۹۱۵ء کہ آپ کو ہم آنحضرت سلی اسلام سے بلند درجہ رکھنے والا سمجھتے ہیں بلکہ یہی سمجھتے ہیں کہ آپ نے جو کچھ پایا اور جو کچھ حاصل کیا وہ آنحضرت سلی لا یتیم کی غلامی میں پایا۔اور آپ آنحضرت سلی یا پی ایم کے غلام ہی تھے پس جو شخص اس کے خلاف کوئی بات ہماری طرف منسوب کرتا ہے وہ اعتداء کرتا اور جھوٹ بولتا ہے۔یہاں کوئی غیر مبائع نہیں۔خدا تعالیٰ نے قادیان کو بھی مدینہ کی طرح بنا دیا ہے۔آنحضرت صلی یک تیم فرماتے ہیں کہ مدینہ بھٹی کی طرح ہے ۲۔جو خبیث اس میں پڑتا ہے اس کو نکال کر باہر پھینک دیتا ہے۔قادیان میں بھی باوجود اس کے کہ ان لوگوں کے ہاتھ میں سب کچھ تھا اور سیاہ وسفید کے مالک بنے ہوئے تھے لیکن خدا تعالیٰ نے یہاں سے ان کو نکال کر باہر پھینک دیا۔اب اگر کوئی ان کا ساتھی یہاں رہتا بھی ہے تو وہ منافقت کی حالت میں رہتا ہے اس کو اپنا آپ ظاہر کرنے کی جرات ہی نہیں۔پس یہاں ایسے لوگوں کے سامنے جو سب کے سب میرے ہم خیال ہیں مجھے ظاہر کچھ اور پوشیدہ کچھ اور کہنے کی کیا ضرورت ہے۔تم لوگوں کو قادیان آئے ہوئے کتنا عرصہ گزر گیا ہے کیا کسی کو بھی میں نے یہ کہا ہے کہ اصل خاتم النبین حضرت مسیح موعود ہی ہیں۔جب تم لوگوں کو نہیں کہا تو وہ دکنی بد نصیب جو خدا جانے کس غرض سے یہاں پہنچا تھا دس دن میں ایسا مخلص کہاں ہو گیا تھا کہ اسے میں نے ایسی پوشیدہ باتیں کہہ دیں جو تم میں سے کسی کو نہ کہیں۔پس کسی کی طرف وہ باتیں منسوب کرنا جو اس نے نہیں کہیں لعنتی آدمی کا کام ہے۔ہمارا اس میں دخل نہیں خدا تعالیٰ چاہے تو ایسے آدمی کو سزا دے اور چاہے تو چھوڑ دے۔مگر ہمارے لئے یہ خوشی کی بات ہے کہ خدا تعالیٰ نے ہمارے دشمن کو اندھا کر دیا ہے اور اسے ہمارے بچے عیب نظر نہیں آتے۔اگر کسی کا سچا اور درست عیب ظاہر کر دیا جائے تو وہ اس پر شرمندہ ہوتا ہے۔ہم میں بھی کئی عیب ہیں کیونکہ ہم انسان ہیں اور کوئی انسان عیبوں سے خالی نہیں ہوتا مگر یہ خدا تعالیٰ کا فضل ہے کہ ہمارے دشمنوں کو ہمارے عیب نظر نہیں آتے اس لئے انہیں اب یہ ضرورت پڑی ہے کہ جھوٹ بنا کر پیش کریں، یہ ہماری فتح اور کامیابی کی علامت ہے۔میں نے دیکھا ہے کہ بعض لوگوں پر غلط الزام لگتا ہے تو وہ کڑھتے اور رنج محسوس کرتے ہیں لیکن انہیں خوش ہونا چاہیئے کیونکہ دشمن کا ایسا کرنا خدا تعالیٰ کے فضل اور کرم کی علامت ہے اور یہ اس طرح کہ جب انسان کسی گناہ میں مبتلا ہوتا ہے اور وہ گناہ بڑھتے بڑھتے