خطبات محمود (جلد 4) — Page 357
خطبات محمود جلد ۴ ۳۵۷ سال ۱۹۱۵ء تندرست اعضاء کی طرح ہو جائیں کیونکہ جب تک یہ نہیں ہوگا قومی ترقی مشکل اور نہایت مشکل ہے۔پھر آپس کے اختلافات میں کئی جگہ جھگڑے ہوتے ہیں جن کا اگر نتیجہ دیکھا جائے تو یہ ہوتا ہے کہ اپنے کسی رشتہ دار کا خواہ وہ غیر احمدی ہی کیوں نہ ہو لحاظ کر کے احمدی کو نقصان پہنچایا جاتا ہے۔پس جو ایسا کرتا ہے وہ قومی اتحاد اور اتفاق کو پراگندہ کرتا ہے اور قومی یک جہتی کو توڑتا ہے۔یہ یاد رکھنا چاہئیے کہ جو کوئی جماعت میں داخل ہو گیا وہ اپنا ہو گیا اور سب امیر وغریب ایک ہو گئے۔وہی ایک دوسرے کے رشتہ دار ہیں وہی ایک دوسرے کے عزیز ہیں اور وہی ایک دوسرے کے دوست اور محب ہیں۔باقی دوسروں سے جب مذہبی جدائی ہوگئی تو پھر وہ جسمانی رشتہ دار کہاں ہو سکتے ہیں۔پس یہی ہماری برادری ہے جو خدا تعالیٰ نے لاکھوں کی تعداد میں پیدا کر دی ہے۔جو بھی احمدی ہے وہ ہمارا رشتہ دار، ہمارا عزیز اور ہمارا پیارا ہے، وہ ہم میں سے ہے اور ہم اس سے ہیں اور جو احمدی نہیں وہ ہمارا کچھ بھی نہیں۔ہاں اس کے ساتھ اس وقت اور اس حد تک تعلق ہے جہاں تک کہ دنیا کے چین اور امن میں اس سے فائدہ پہنچتا ہے اور دنیاوی کاروبار اس سے متعلق ہیں۔مگر تمدن قومی اور جماعت کے فوائد کا جہاں تک تعلق ہوگا اور ی جماعت اور قوم کو جہاں اس سے نقصان پہنچتا ہو گا وہاں وہ کچھ بھی نہیں ہوگا اور وہی ہمارا بھائی وہی ہمارا عزیز ہو گا جو ہماری قوم میں سے ہوگا، اسی کے فوائد ہمارے زیر نظر ہوں گے۔جب تک یہ بات پیدا نہ ہو جائے اس وقت تک یہ خیال کر لینا کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ہمارے لئے نصرت اور مدد آئے گی محال ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَاذْكُرُوا نِعْمَتَ اللهِ عَلَيْكُمْ إِذْ كُنْتُمْ أَعْدَا ءِ فَأَلَّفَ بَيْن قُلُوبِكُمْ فَأَصْبَحْتُم بِنِعْمَتِهِ اِخْوَانًا۔تم میری نعمت کو یاد کرو تم ایک دوسرے کے دشمن تھے میں نے تمہیں بھائی بھائی بنادیا۔کیا ہی لطیف بات بیان فرمائی کہ جب ہم نے تمہاری دشمنی کو مٹا کر تمہیں دوست بنا دیا ہے اور تم ایک دوسرے کے بھائی بھائی ہو گئے ہو تو بھائی کے ساتھ بھائی کو محبت رکھنا کیا مشکل ہے؟ بھائی کس طرح بنا دیا۔بھائی ان کو کہا جاتا ہے جو ایک باپ کے بیٹے ہوتے ہیں اور ان کا آپس میں اس لئے سلوک ہوتا ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ ہم ایک باپ کے بیٹے ہیں۔دنیا میں جب لڑائیاں اور فساد پیدا ہو جاتے ہیں تو خدا تعالیٰ اپنے مامور کو بھیج دیتا ہے۔پس جتنے لوگ اس مامور سے تعلق پید ا کرتے جاتے ہیں وہ ایک دوسرے کے بھائی بھائی ہو جاتے ہیں۔تو خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم نے ایک آدمی کے ساتھ تعلق کرا کر