خطبات محمود (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 356 of 574

خطبات محمود (جلد 4) — Page 356

خطبات محمود جلد ۴ ۳۵۶ سال ۱۹۱۵ء گھبراتی ہے جہاں ایک بیماری کا علاج کرے تو دوسری پیدا ہو جائے۔کیوں؟ اس لئے کہ اگر وہ جگر کا علاج کرتا ہے تو معدہ خراب ہو جاتا ہے اور اگر معدہ کا علاج کرتا ہے تو سینہ خراب ہو جاتا ہے۔پس جہاں دو چیزیں ایسی مقابلہ میں آجاتی ہیں کہ ایک سے دوسری بیماری اور دوسری سے تیسری بیماری پیدا ہو جاتی ہے اور ایک عضو کے ساتھ دوسرا بیمار ہو جاتا ہے تو اس وقت انسان کو آرام نہیں ہو سکتا۔اسی طرح جس قوم کے افراد ایسے ایک دوسرے سے دور ہوں کہ اگر ایک کو سکھ پہنچے تو دوسرے کو دکھ محسوس ہو اور اگر ایک کو تکلیف پہنچے تو دوسرے کو آرام ہو اس قوم کیلئے کسی قسم کی ترقی کی امید نہیں ہو سکتی۔یہی وجہ ہے کہ مسلمانوں کو خدا تعالیٰ نے بار بار قرآن شریف میں اس طرف متوجہ کیا ہے کہ اگر تم ترقی کرنا چاہتے ہو اور کامیاب قوم بننا چاہتے ہو تو آپس کے لڑائی جھگڑوں کو چھوڑ کر ایک ہو جاؤ۔فرمایا وَ اعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللهِ جَمِيعًا وَلَا تَفَرَّقُوا کہ آپس کے اختلافات کو چھوڑ دو اور حبل اللہ کو مضبوط پکڑ لو۔جب تمام آدمی ایک رستہ کو پکڑ لیتے ہیں تو میں نے دیکھا ہے ان میں سے اگر ایک کو جھٹکا لگے تو سب کو لگتا ہے گویا خدا تعالیٰ نے اتفاق اور اتحاد کا یہ نشان بتایا ہے حبل اللہ کو ایسا مضبوط پکڑو کہ ایک کے سکھ میں سارے سکھ محسوس کرو اور ایک کے دکھ میں سب کو دکھ پہنچے جب کسی قوم کے لوگ ایسے ہوجائیں تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم ایسی قوم کی ترقی کے راستے کھول دیتے ہیں۔ہماری جماعت کو جہاں اور بڑے بڑے کاموں کی طرف توجہ ہے وہاں اس طرف بھی بہت توجہ کرنی چاہئیے۔میں نے دیکھا ہے کہ اس میں ابھی کمی ہے جہاں کوئی جھگڑا یا اختلاف ہوتا ہے وہاں ذاتی اغراض کو مدنظر رکھ کر جماعت کے اغراض و مقاصد کو قربان کیا جائے تو افسوس کی بات ہے۔یادرکھنا چاہئیے کہ اس وقت تک کبھی ترقی نہ ہوگی جب تک کہ ذاتی فوائد کو قومی فوائد پر قربان نہ کیا جائے گا۔پس ہمارے دوستوں کو چاہیے کہ اس طرف بہت توجہ کریں کیونکہ جب تک تمام قوم میں اتحاد اور اتفاق نہ ہو اور تمام قوم ایک سلک میں منسلک نہ ہو اور ہر ایک دوسرے کے دکھ سکھ کو اپنا دکھ سکھ نہ سمجھے ترقی ہونا ناممکن ہے۔کبھی کوئی انسان یہ نہ دیکھے گا کہ کسی کی آنکھ کو دکھ ہوا اور اس کا باقی جسم آرام میں ہو یا ناک، کان ، ہاتھ ، پاؤں وغیرہ اعضاء میں تکلیف ہو تو باقی جسم میں دکھ نہ ہو۔پس ہماری جماعت کو چاہیے کہ آپس میں جسم کے اعضاء کی طرح ہو جائیں بیمار اعضاء کی طرح نہیں بلکہ