خطبات محمود (جلد 4) — Page 353
خطبات محمود جلد ۴ ۳۵۳ سال ۱۹۱۵ء ہی دیا مگر پھر بھی وہ اُمَنُوا میں شامل ہیں کیونکہ وہ خدا تعالیٰ کے سب نبیوں پر ایمان لاتے ہیں۔بلکہ ہم تو عیسائیوں اور غیر احمدیوں کے مقابلہ میں بھی غیر احمدیوں کو آھدی قرار دیتے ہیں نہ کہ مسیحیوں کو کیونکہ غیر احمدی ایمان کے جس درجہ پر ہیں گو وہ ان کو مسلمان نہ بناتا ہومگر مسیحیوں سے بہر حال ہزار درجہ بہتر ثابت کرتا ہے کیونکہ غیر احمدی صرف آخری مامور کے منکر ہیں۔حالانکہ مسیحی آنحضرت ا ایلیم اورقرآن کریم کے بھی منکر ہیں۔اسی طرح مسیحی اور یہودی مذہب کے مقابلہ میں ہم یہودیوں کو بھی مسیحیوں سے آھدی نہ کہیں گے کیونکہ وہ حق کے قبول کرنے میں یہودیوں کی نسبت مسلمانوں کے قریب ہیں۔غرض جس جس قدر کوئی شخص ایمان کی باتوں کو زیادہ مانتا ہے خواہ وہ مسلمان نہ بھی ہو، ہم تب بھی اس سے کم درجہ کے انسان سے اسے اکھنڈ ی ہی یقین کرتے ہیں۔باقی رہا سزا جزاء کا معاملہ وہ خدا تعالیٰ کے اختیار میں ہے اور یہ اس کا کام ہے اس میں دخل دینے والا انسان احمق اور نادان ہے۔اللہ تعالیٰ جس کو چاہے بخش دے اور جس کو چاہے سزا دے۔ہاں اس نے کچھ قواعد مقرر کئے ہوئے ہیں جو کچھ ظاہری ہیں اور کچھ باطنی۔باطن کی نسبت ہم نہیں جانتے کہ وہ کس پر منطبق ہو سکتے ہیں۔البتہ ظاہری قواعد پر ہم کسی کو پرکھ سکتے ہیں۔لیکن جزاء وسزا کا فیصلہ اندرونی خیالات ، حالات اور اعتقادات وغیرہ پر ہی ہوگا، اس لئے کسی کی نسبت جہنمی یا بہشتی ہونے کا فیصلہ ہم نہیں کر سکتے ممکن ہے کہ ایک مسلمان ہو مگر اعمال سے ایسا گرا ہوا ہو کہ جہنم کے قابل ہو اور ممکن ہے ایسا کا فر ہو کہ آنحضرت سلیم کا نام اس تک نہ پہنچا ہو مگر اس کے اعمال بتاتے ہوں کہ اگر یہ آنحضرت ﷺ کا نام سنتا تو ضرور مان لیتا۔اور جس طرح آنحضرت صلی ایم نے فرمایا ہے کہ قیامت کے دن لوگوں کو موقع دیا جائے گا ہو سکتا ہے کہ وہ شخص اس وقت مان کر بہشت میں داخل ہو جائے۔اسی طرح ممکن ہے کہ ایک احمدی گنہ گار سزا پا جائے لیکن ایک غیر احمدی جو مسیح موعود کے نام سے بھی ناواقف ہے وہ دوبارہ موقع دیا جانے پر ہدایت قبول کر کے انعام الہی کا وارث ہو جائے۔پس کفر و اسلام کے متعلق فتویٰ دینا بہت مشکل ہے۔جب تک غیر مبائعین حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دعوؤں کی تاویلیں کرتے ہیں اور انکار نہیں کرتے اور جب تک کوئی ایسا مامور من اللہ نہیں آتا جس کا انکار کفر ہو اور یہ اس کا انکار نہیں کرتے تب تک