خطبات محمود (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 334 of 574

خطبات محمود (جلد 4) — Page 334

خطبات محمود جلد ۴ ۳۳۴ سال ۱۹۱۵ء تحصیلدار کے مقابلہ میں ڈپٹی کمشنر کوئی حکم دے تو اس کا حکم منسوخ ہو جاتا ہے لیکن اس کے یہ معنی نہیں کہ اب تحصیلدار کے تمام حکم ردی ہو گئے ہیں۔بلکہ یہ کہ ڈپٹی کمشنر کے مقابلہ میں اس کا حکم رڈی ہو گیا ہے۔پس اسی طرح حدیثوں کا معاملہ ہے اس میں کوئی شک نہیں کہ آنحضرت سلیم انسان تھے اور انسان انسان ہی ہوتا ہے اور خدا خدا ہی لیکن آپ جو کچھ بھی فرماتے تھے وہ خدا تعالیٰ کے حکم سے ہی فرماتے تھے اس لئے اگر یہ ثابت ہو جائے کہ فلاں حکم آپ کا صحیح قول ہے تو ہم اس کو ہرگز رد نہیں کرتے لیکن اگر کوئی حدیث ہم چھوڑتے ہیں تو اس لئے چھوڑتے ہیں کہ اس کے صحیح ہونے کا ثبوت نہیں ہے اور معلوم نہیں کہ واقعہ میں آپ نے اس طرح فرما یا بھی ہے یا نہیں۔حضرت مسیح موعود کی ڈائری اور آپ کے تعامل کا مقابلہ:۔اسی طرح حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ڈائریاں ہیں یہ بھی ہمارے لئے قابل قبول ، قابل عزت اور حقیقت میں ہمارے ماننے کیلئے ضروری ہیں لیکن آپ کے تعامل کے مقابلہ میں آپ کی کسی ڈائری کا وہی درجہ ہوگا جو آنحضرت سلیم کی حدیث کا آنحضرت کے تعامل کے معت ابلہ میں ہے۔پس اگر کوئی بات ہمیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اپنی کتاب میں ملتی ہے یا جس بات پر آپ خود عامل ہوں تو وہ سچائی کے یقینی درجے تک پہنچی ہوئی ہے۔اس کے مقابلہ میں جو ڈائری آجائے وہ اگر اس کے مطابق نہ کی جا سکے تو رد کرنے کے قابل ہوگی۔اسی طرح حضرت مسیح موعود کی تحریر کے مقابلہ میں اگر کوئی حدیث آتی ہے تو وہ بھی تشریح کے قابل ہے اگر وہ صحیح حدیث ہے تو ضرور اس میں اور مسیح موعود کے قول میں مطابقت ہوگی اور اگر مطابقت ممکن نہیں تو پھر اس کی صحت میں ضرور کوئی نقص ہوگا اور رد کرنے کے قابل ہوگی اور یہ اس لئے نہیں کہ حضرت مسیح موعود کوئی نئی شریعت لائے تھے بلکہ اس لئے کہ چونکہ آپ قرآن شریف کی غلط تفسیروں اور لوگوں کے غلط اعمال کی اصلاح کرنے کیلئے آئے تھے۔اس لئے ہم آپ کے تعامل اور قول کو رسول اللہ سنی لی لی ایم کے اس کی حکم کے مطابق کہ وہ حکماً وعدلاً ہوگا اور قرآن شریف کے اس ارشاد کے مطابق کہ وَآخَرِيْنَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا جلد سے قرآن کریم کی سچی تفسیر اور آنحضرت سال یا پین کے صحیح اقوال کو ثابت کرنے والے یقین کریں گے۔اور ہم حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے حکم کے کبھی خلاف نہ کریں گے۔اس کی مثال ایسی ہی ہے جیسے