خطبات محمود (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 331 of 574

خطبات محمود (جلد 4) — Page 331

خطبات محمود جلد ۴ ۳۳۱ سال ۱۹۱۵ء ہیں نہیں پڑھنا چاہیئے وہ یہ دلیل پیش کرتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے غیر احمدی کا جنازہ پڑھنے سے منع کیا ہے اور جو کہتے ہیں کہ پڑھنا چاہیئے وہ بھی حضرت مسیح موعود کی ایک ڈائری پیش کرتے ہیں جو یہ ہے کہ:۔سوال ہوا کہ جو آدمی اس سلسلہ میں داخل نہیں اس کا جنازہ جائز ہے یا نہیں۔حضرت اقدس مسیح موعود نے فرمایا۔اگر اس سلسلہ کا مخالف تھا اور ہمیں بڑا کہتا اور سمجھتا تھا تو اس کا جنازہ نہ پڑھو اور اگر خاموش تھا اور درمیانی حالت میں تھا تو اس کا جنازہ پڑھ لینا جائز ہے بشرطیکہ نماز جنازہ کا امام تم میں سے کوئی ہو ورنہ کوئی ضرورت نہیں۔اس میں چونکہ حضرت صاحب نے اجازت دی ہے تو پھر ہم کون ہیں جو یہ فیصلہ کریں کہ غیر احمدی کا جنازہ نہیں پڑھنا چاہئیے۔میرے پاس مختلف جگہوں سے اس کے متعلق خطوط آ رہے ہیں کہ ہمیں کیا کرنا چاہیئے آیا ہم غیر احمدی کا جنازہ پڑھیں یا نہ پڑھیں؟ اس سوال کا جواب دینے سے پہلے بہت بڑی ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم یہ دیکھیں کہ ہمارے درمیان طریق فیصلہ کیا ہونا چاہیئے پھر جو طریق قرار پائے اس کے مطابق ہم فیصلہ کر لیں۔اس میں تو کوئی شک نہیں کہ حضرت مسیح موعود کاہی فیصلہ درست صحیح اور حق ہے لیکن وہ جس طریق سے ہم تک پہنچا ہے اس پر بحث کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ یہ خالی از شبہات نہیں ہے۔یہی وجہ ہے کہ حضرت مسیح موعود نے آنحضرت سی پیہم کی احادیث اور شریعت اسلام کے متعلق کچھ اصول تجویز کئے ہیں کہ کونسی احادیث اور احکام ماننے کے قابل ہیں اور کون سے رڈ کرنے کے قابل۔آپ نے لکھا ہے کہ اول تو قرآن شریف کو ماننا چاہئیے کیونکہ یہ خدا کی کتاب ہے اور خدا تعالیٰ نے خود اس کی محافظت کا وعدہ کیا ہوا ہے اور پھر اگر کوئی اس میں کچھ ملانے یا کم کرنے کی کوشش کرے تو وہ تباہ و برباد ہو جاتا ہے۔چونکہ قرآن شریف میں کمی بیشی کرنے کی کسی کو جرات نہیں اس لئے اس کو سب سے اول مانا چاہیئے۔یہ باتیں احادیث کے متعلق نہیں مانی جاتیں اس لئے سب سے اول جو احکام ماننے کے قابل ہیں، وہ قرآن شریف ہی کے ہیں۔پس جب کسی بات کے متعلق قرآن شریف کا فیصلہ مل جائے تو وہ یقینی اور پختہ ہوتی ہے۔دوم قرآن شریف کے بعد آپ نے سنت کو قرار دیا ہے یعنی ان باتوں کا ماننا جو ہم