خطبات محمود (جلد 4) — Page 24
خطبات محمود جلد ۴ ۲۴ سال ۱۹۱۴ء وہ اپنا مذہب ترک کر کے اسلام میں داخل ہو۔قرآن کریم کے شروع میں ہی اس سوال کو حل کر دیا ہے هُدًى لِلْمُتَّقِينَ تمام مذاہب کی آخری و بات اور آخری معیار یہ ہے کہ وہ انسان کو متقی بنا دیتے ہیں۔ہندو ہو یا عیسائی، یہودی ہو یا کوئی اور یہ سب یہی کہتے ہیں کہ ہمیں مان لو تو پاک ہو جاؤ گے۔مگر ہم کہتے ہیں کہ اس کا ثبوت کیا ہے۔سب مذاہب والے یہی کہیں گے کہ اس کا نتیجہ تمہیں آخرت کو چل کر معلوم ہو جائے گا، فی الحال تمہارے لئے مان لینا ہی کافی ہے۔قبول کر لینے کی غرض تو یہ ہے کہ مولیٰ راضی ہو جاوے۔آخرت میں جا کر اگر معلوم ہوا کہ یہ راہ جس پر ہم چلتے تھے وہ غلط تھی تو اس وقت پھر کیا فائدہ ہوگا۔وہاں سے تو انسان واپس نہیں آسکتا کہ واپس آکر دوسرا صحیح طریق اختیار کر لیوے۔قرآن کریم کا دعویٰ ہے کہ میں صرف متقی ہی نہیں بنا دیتا بلکہ میں ہدایت دیتا ہوں اور ایک دروازہ کھول دیتا ہوں جس سے متقی بننے کے ثمرات سے اسی دنیا میں متمتع ہو سکتے ہیں اور پھر متقی سے آگے جو بلند درجات ہیں وہ حاصل ہوتے ہیں۔اس کی مثال ایسی ہے کہ کوئی اعلیٰ افسر ہو اور ایک آدمی اس کو ملنا چاہتا ہو۔تو اس آدمی کو ایک آدمی تو کہتا ہے اس کے دروازے تک میں پہنچا سکتا ہوں اور دوسرا ایک آدمی ہے جو اسے کہے کہ میں آپ کو اندر اس کے پاس پہنچا سکتا ہوں اور اس سے ملاقات کروا سکتا ہوں۔تو وہ ان دونوں میں سے کس کی بات مانے گا وہ اس کی بات مانے گا اور اسی کے ساتھ ہولے گا جو اسے اس کے ساتھ ملا دینے کا وعدہ کرتا ہے اور اندر لے جائے گا۔تمام مذاہب کا دعویٰ یہی ہے کہ ہم دروازے تک پہنچا دیں گے مگر اسلام صرف یہی دعوی نہیں کرتا کہ میں دروازے تک پہنچا دوں گا بلکہ وہ اندر لے جانے کا دعوی کرتا ہے اور خدا سے ملا دینے کا وعدہ کرتا ہے۔اسلام پر چلنے سے تمہیں اسی دنیا میں معلوم ہو جائے گا کہ اللہ تم پر راضی ہے۔متقی جو اپنی طرف سے تمام نیک اعمال میں کوشش کرتا ہے اور تمام کاموں میں اللہ کی خشیت مدنظر رکھتا ہے، اپنی کوشش ختم ہونے کے بعد پھر یہی باقی رہ جاتا ہے کہ دوسری طرف سے کوشش شروع ہو جاتی ہے۔پس اپنی طرف سے انتہائی کوشش کر کے جو اسلام کے دروازے تک پہنچ جاتے ہیں یہ کتاب انہیں محبوب سے ملا دیتی ہے۔ہر زمانے میں اسلام میں مجدد اور امام آتے رہے ہیں اور تمام مذاہب میں سے کسی ایک میں ایسا نہیں پایا جا تا کوئی آدمی کسی کی دکان میں جائے تو اگر وہ اپنی مطلوبہ چیز اس دکان میں نہ پائے تو وہ وہاں داخل نہیں ہوتا۔