خطبات محمود (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 318 of 574

خطبات محمود (جلد 4) — Page 318

خطبات محمود جلد ۴ ۳۱۸ سال ۱۹۱۵ء کے مقابلہ سے پیچھے نہیں ہٹ سکتے تھے۔جنگ میں جو بڑا بھاری خطرہ ہوتا ہے وہ یہی ہوتا ہے کہ جان جائے گی لیکن صحابہ کا تو یہ حال تھا کہ مر گئے تو بھی راحت، زندہ واپس آگئے تو بھی راحت۔لیکن ان کے دشمنوں کو یہ بات حاصل نہ تھی۔ان میں سے ہر ایک یہی کہتا تھا کہ اگر میں غالب رہا تو فتح ہوگی لیکن اگر مر گیا تو مجھے کوئی فائدہ نہ ہوگا۔اس میں شک نہیں کہ ہر مذہب و ملت والے اپنے مذہب کی راہ میں مرنے سے اجر اور نفع کی امید رکھتے ہیں۔لیکن ان میں اور مسلمانوں میں یہ فرق تھا کہ انہوں نے خدا تعالیٰ سے انعام واکرام پانے کا کوئی زندہ معجزہ نہیں دیکھا تھا اور گو کتابوں میں پڑھتے تھے کہ دین کے راستہ میں تکلیفیں اٹھانے کا بدلہ ملا کرتا ہے لیکن سامنے انہوں نے دیکھ لیا ہو کہ خدا انعام دیتا ہے یہ نہیں ہو سکتا تھا۔اس لئے اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو فرمایا کہ جو امیدیں تمہیں ہیں وہ غیروں کو نہیں ہیں کیونکہ تم نے خدا کے فضلوں کو سامنے دیکھ لیا ہے لیکن ان کی امیدوں اور آرزوؤں کے کی بنیاد صرف شک اور اعتقاد پر ہے اور تمہاری امیدیں مشاہدات پر۔پس جو امیدیں یقین کے ساتھ ہوسکتی ہیں وہ ان کو نہیں ہو سکتیں اس لئے تم ان وعدوں، انعاموں، اور امیدوں کے ہوتے ہوئے پھر کس طرح سنتی دکھا سکتے ہو۔یہ وہ بات تھی جو صحابہ کو آگے ہی آگے لئے جاتی تھی اور ان کے جوش و خروش کو کبھی کم نہ ہونے دیتی تھی۔انسانی زندگی کیلئے سب سے خطرہ کی بات موت ہی ہوتی ہے مگر موت ان کیلئے ایک پردہ تھا جو ہٹ جاتا تھا اور وہ اپنے محبوب کا دیدار کر لیتے تھے۔لکھا ہے کہ ایک جنگ میں حضرت ضرار کے سامنے دو تین صحابی قتل کئے گئے اور پھر ان کو بلایا گیا کہ آؤ مقابلہ کیلئے نکلو۔ضرار یہ سن کر بھاگے بھاگے اپنے خیمہ کی طرف گئے دشمنوں نے سمجھا کہ بھاگ گئے ہیں۔آپ جلدی سے خیمہ سے واپس آگئے تو صحابہ نے پوچھا کہ آپ کیوں بھاگ گئے تھے۔انہوں نے کہا کہ آج میں نے دوز رہیں پہنی ہوئی تھیں میں نے خیال کیا کہ میری نسبت یہ خیال کیا جائے گا کہ ضرار د شمن سے ڈرتا ہے اور اپنی جان کو بچانا چاہتا ہے اس لئے اس نے دوزر ہیں پہنی ہیں لیکن میں موت کو ایک پردہ سمجھتا ہوں جس کے اٹھنے کے بعد خدا تعالیٰ کا دیدار ہے جس کے اٹھنے کے بعد جنت ہے اور جس کے اٹھنے کے بعد نعمتیں اور فضل ہیں اسی لئے میں خیمہ میں گیا تھا اور دونوں زرہوں کو اتار کر مقابلہ کیلئے آیا ہوں ، پھر لکھا ہے کہ جب کبھی سخت جنگ ہوتی تھی تو صحابہ اپنی چھاتی سے کپڑا