خطبات محمود (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 317 of 574

خطبات محمود (جلد 4) — Page 317

خطبات محمود جلد ۴ ۳۱۷ سال ۱۹۱۵ء حملہ نہیں کرتا تو پھر تمہیں تلوار سے مقابلہ کرنے کی اجازت نہیں۔ہاں جس طرح تمہارا دشمن تمہیں مغلوب کرنا چاہتا ہے اسی طرح تم اس پر حملہ کرو اور جہاں کہیں اسلام کے دشمن ہوں، ان کو تلاش کر کے ان پر حملہ کرنے میں کبھی ستی نہ دکھاؤ۔اور اگر تم یہ کہو کہ اس طرح تو ہمیں دُکھ اور تکلیفیں ہوں گی تو کیا تم اپنے مخالفوں کو نہیں دیکھتے کہ دین کے پھیلانے میں کس طرح لگے ہوئے ہیں اور کسی تکلیف کی پرواہ نہیں کرتے۔نہ مال کے خرچ کرنے میں انہیں کوئی تائمل ہوتا ہے۔اگر لڑائی ہو تو لڑائی میں اور لڑائی کے بغیر یوں اشاعتِ عیسائیت میں عیسائی کروڑ وں کروڑ روپے خرچ کر دیتے ہیں اور خطر ناک سے خطر ناک جگہوں پر اپنی جانوں کو خطرہ میں ڈال کر تبلیغ مذہب کرتے ہیں۔عیسائی عورتیں جو تبلیغ کیلئے جاتی ہیں قتل ہو جاتی ہیں تو دوسری ان کی جگہ جانے کو تیار ہو جاتی ہیں۔اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا کہ مسلمانو! اگر تمہیں اسلام کی اشاعت اور تبلیغ کرنے اور دوسرے ادیان پر اسے غالب کرنے کیلئے کوشش کرنے پر اگر دشمن تلوار اٹھاتا ہے تو اس کا مقابلہ تلوار سے کرنے سے تکلیفیں ہوں گی ، زخم لگیں گے، جانیں جائیں گی اور تمہارا وقت اور مال صرف ہوگا تو تمہارے دشمن کا بھی ایسا ہی حال ہوتا ہے۔اگر تمہارے ملک میں ویرانی ہوتی ہے اور فصلیں تباہ ہوتی ہیں تو دشمن کا بھی تو یہی حال ہے۔اگر تمہیں زخم لگتے ہیں تو تمہارے دشمن کو بھی لگتے ہیں اگر تمہارے ساتھی مارے جاتے ہیں تو ان کے بھی تو مرتے ہیں ان باتوں میں تم ان سے برابر ہو مگر ایک بات ہے جو تمہارے دشمن کو حاصل نہیں ہے اور وہ یہ ہے کہ تم کو جو اپنے رب سے امیدیں لگی ہوئی ہیں اور تمہیں جو اپنے خدا سے فضلوں کی امیدیں ہیں یہ انہیں نہیں ہیں۔تم نے تو اپنے رب کے فضلوں اور انعاموں کے زندہ نمونے دیکھے ہیں اس لئے تمہیں امیدیں ہیں لیکن ان کے پاس کوئی زندہ نمونہ نہیں ہے اس لئے ان کو کسی قسم کی امید بھی نہیں ہے تو جب یہ لوگ باوجود اپنے پاس زندہ نمونہ نہ رکھنے کے اور کسی قسم کے امیدوار نہ ہونے کے تکلیفیں اور مصیبتیں اُٹھا ئیں تو تم جبکہ نمونہ اور امیدیں رکھتے ہو تم کیوں گھبراؤ۔پس یہ وہ گر تھا جس نے ان کو دنیا کے ہر میدان میں کامیاب ہی کیا کیونکہ انہیں یہ معلوم ہو گیا تھا کہ اگر ہم مر گئے تو شہید ہوئے اور اگر زندہ رہے تو غازی بنے یعنی مرے تو بھی مزا اور جیتے رہے تو بھی مزا۔جب صحابہ کا یہ خیال اور یقین تھا تو وہ کسی حالت میں بھی دشمن