خطبات محمود (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 284 of 574

خطبات محمود (جلد 4) — Page 284

خطبات محمود جلد ۴ ۲۸۴ سال ۱۹۱۵ء بڑے کے کرنے کی نوبت نہ پہنچے۔ایسا ہی ہے جیسے کوئی شخص یہ کہے کہ میں کو ٹھے پر نہ چڑھنے کے لئے پہلی سیڑھی پر چڑھ جاتا ہوں۔جب وہ پہلی سیڑھی پر چڑھے گا تو اس کا دل دوسری پر چڑھنے کی طرف راغب ہوگا اور جب اس پر چڑھا تو آگے چڑھنے کی تحریک اس کے دل میں ہوگی اور ہوتے ہوتے وہ ایک وقت چھت پر جائے گا۔اسی طرح جب ایک شخص ایک نیکی کرے گا تو دوسری کے کرنے کی اسے اُمنگ اور خواہش پیدا ہوگی اور جب وہ دوسری کرلے گا تو تیسری کیلئے اسے اور زیادہ شوق پیدا ہوگا اور اس کا قدم دن بدن نیکیوں کی طرف بڑھتا جائے گا۔تم نے کبھی کوئی آبشار دیکھی ہے جس طرح آبشار کے قریب آکر پانی بہت تیز ہو جاتا ہے۔اسی طرح جب انسان گناہوں کے گڑھے کے قریب کی راہ تک پہنچ جاتا ہے تو بہت تیز ہوکر اس تیرہ و تار گڑھے میں بہت جلدی گر پڑتا ہے۔اور جب انسان نیکیوں کی راہ پر چل کر اتقاء کے مرتبہ کے نزدیک ہو جاتا ہے تو بہت جلدی اس درجہ کو حاصل کر لیتا ہے۔پس اس بات کو خوب یاد رکھو کہ ایک بدی دوسری بدی کی طرف، ایک گناہ دوسرے گناہ کی طرف، ایک نیکی دوسری نیکی کی طرف اور ایک تقویٰ کی بات دوسرے تقویٰ کے کام کی طرف انسان کو کھینچ کر لے جاتی ہے۔دیکھو ابھی سال بھی نہیں گزرا۔آج پانچ مارچ ۱۹۱۵ ء ہے۔اور ۱۴۔مارچ ۱۹۱۴ء کو جماعت کے ایک حصہ نے ایک صداقت کا انکار کیا تھا اور ایک راستباز کو جھٹلا دیا تھا۔بظاہر تو انہوں نے یہ کہا کہ جماعت کیلئے کسی خلیفہ کی ضرورت نہیں لیکن خلیفہ کے وجود کو الگ کر کے یہ ایک صداقت تھی جس کا انہوں نے انکار کیا۔اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ابھی سال بھی نہیں ہوا کہ اسی جماعت کے لوگوں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر حملے کرنے شروع کر دیئے ہیں۔ایک اخبار میں ایک شخص بحضرت مولا نا امیر قوم علامہ مولوی محمد علی صاحب سلّمه رجه کر کے لکھتا ہے اور اسی شخص کا ایک خط انجمن احمد یہ اشاعت اسلام لاہور کے رسالہ المہدی میں ایک مخلص کا خط حضرت امیر قوم کے نام“ کے عنوان سے چھپتا ہے وہ لکھتا ہے یہ سچ ہے کہ ان میں یعنی مرزا صاحب میں بھی بیشک اتنی شخصیت ضرور تھی کہ ان کو رسول و نبی کہلانے کا شوق ضرور تھا۔جب ہی تو ایک طرف لکھتے جاتے ہیں کہ میں نبی ہوں ، رسول ہوں ، ساتھ ہی پھر گول مول جملہ بنانے کی خاطر یہ بھی لکھتے جاتے ہیں کہ میں مجاز أرسول ہوں اور لغوی معنوں میں نبی ہوں اسلامی اصطلاح پر نبی اور رسول نہیں ہوں۔ادھر وحی کا دعویٰ ہے تو ادھر الہام کے مدعی ہیں کبھی وحی رسالت کا