خطبات محمود (جلد 4) — Page 177
خطبات محمود جلد ۴ 122 سال ۱۹۱۴ء اسے پھر اٹھنے کی طاقت ہی نہ رہے۔اگر دل میں کبھی بدی کی تحریک ہوتو یہ سمجھ لیناچاہئے کہ ابھی دشمن طاقتور ہے اس کے قلع قمع کرنے کی کوشش کرنی چاہیئے۔پھر جب شیطان بالکل ناامید ہو جائے تو وہ وقت مومن کیلئے خوشی کا وقت ہوتا ہے۔اسی طرح جب کافر کی تباہی کا وقت قریب آجاتا ہے تو مومنوں کو اس کی نسبت حکم ہو جاتا ہے کہ اب اس کو چھوڑ دو۔اگر کوئی شخص مُردہ کو اس لئے دوائی پلائے کہ شاید زندہ ہو جائے کیونکہ خدا تعالیٰ نے قرآن شریف میں حضرت یعقوب کا قول بیان فرمایا ہے۔وَلَا تَايْنَسُوا مِنْ زَوْحِ اللهِ إِنَّهُ لَا يَايُنَسُ مِنْ روح الله إلَّا الْقَوْمُ الْكَفِرُونَ ھے تو وہ پاگل ہے۔یا اللہ تعالیٰ کے قانون سے ناواقف ہے کیونکہ مردہ اس حد تک پہنچ گیا ہے کہ جہاں خدا نے کہہ دیا ہے کہ اس سے علیحدہ ہو جاؤ اور ایک گڑھے میں اس کود با دو۔اگر نا امید نہ ہونا خدا تعالیٰ کا حکم ہے تو علیحدہ ہو جانا بھی تو اسی کا حکم ہے۔اسی طرح جب کافر اپنے کفر میں بڑھ رہا ہو لیکن ابھی وہ ڈھیل کے میدان کے اندر ہو تو ہمیں حکم ہے کہ اس سے نا امید نہ ہو جاؤ اور اس کے ایمان لانے کی طمع رکھو اور اس کیلئے کوشش کرو لیکن اگر وہ اس حالت کو پہنچ جائے جہاں خدا تعالیٰ کا یہ فتویٰ ہے کہ اب ہدایت نہیں پاسکتا۔تو ہم کو اس پر وقت ضائع کرنے کی بجائے اس کی طرف متوجہ ہونا چاہیئے جو کہ قبول کرنے والا ہو۔ہر ایک مومن کو دیکھنا چاہیے کہ شیطان میرے کاموں میں تو شریک نہیں ہوتا اور اگر ہوتا ہے تو وہ سمجھے کہ میں ابھی اس حد تک نہیں پہنچا جہاں کہ شیطان سے بالکل محفوظ رہ سکتا ہوں۔ایسا مومن ابھی میدان جنگ میں ہے اس کو یقین کرنا چاہیئے کہ دشمن ابھی بھا گا نہیں۔وہ مومن جو اپنے نفس کے بدلے خدا کا قرب حاصل کرنا چاہتا ہے اس کو بھی غافل نہیں ہونا چاہیئے یہاں تک کہ دشمن اس سے بالکل طمع چھوڑ دے۔کبھی تم نے دیکھا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پاس کوئی شخص اس لئے آیا ہو کہ آپ کو سمجھائے لیکن کئی احمدی ایسے ہیں کہ جن کے پیچھے لوگ لگے رہتے ہیں اور اپنے قبضہ میں کرنا چاہتے ہیں۔تو جو مومن یہ دیکھے کہ دشمن مجھ سے طمع رکھتا ہے اسے سمجھ لینا چاہیئے کہ وہ کامیابی کے انتہائی نقطہ پر نہیں پہنچا۔اپنی حالت کے پر کھنے کا یہ ایک بہت عمدہ معیار ہے۔شیطان کا مومنوں کی طرف سے نا امید ہونا یہ ہے کہ وہ ان کو کسی برے کام کی طرف ترغیب دینا چھوڑ دے لیکن اس کا مسلمان ہونا یہ ہے کہ مومن اس درجہ کو پہنچ جاوے کہ