خطبات محمود (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 176 of 574

خطبات محمود (جلد 4) — Page 176

خطبات محمود جلد ۴ 124 سال ۱۹۱۴ء ہوتے ہیں جیسے بعض اوقات صحت بیماری پر غالب آجاتی ہے اس لئے اس کو دبا لیتی ہے۔یا بعض دفعہ بیماری صحت پر غالب آجاتی ہے۔ایک بیمار کی درمیانی حالت میں کبھی صحت غالب آجاتی ہے اور کبھی بیماری لیکن انتہاء میں جو غالب ہو وہی نتیجہ سمجھا جاتا ہے اور سب کاموں میں اسی طرح ہوتا ہے۔بعض انسان اپنے دماغ کا استعمال چھوڑ دیتے ہیں۔پھر انہیں کوئی بات سمجھ ہی نہیں آسکتی۔یہاں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا پرانا خادم پیرا ہوتا تھا۔اس کو باوجود کئی دفعہ سمجھانے کے بھی مذہب کی اتنی سمجھ نہ آئی کہ ہوتا کیا ہے۔لیکن ایسے آدمیوں کے مقابلہ میں وہ بھی ہوتے ہیں جو اپنے جان و مال کی عزت و آبرو، خویش واقارب تک کو چھوڑ دیتے ہیں مگر اپنے تک شیطان کا ہاتھ نہیں آنے دیتے۔ان سے شیطان ناامید ہو جاتا ہے یا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اصطلاح میں ان کا شیطان بھی مسلمان ہو جاتا ہے۔ایسے لوگوں کی نسبت اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ درمیانی حد کو عبور کر چکے ہوتے ہیں۔انسان کے اند ر کبھی ملائکہ نیکی کی تحریکیں کرتے ہیں اور کبھی شیطان بدی کی ترغیب دیتا ہے ان کی آپس میں خوب جنگ ہوتی ہے۔پھر اگر خود انسان ملائکہ سے مل جائے تو یہ دونوں مل کر شیطان کو پچھاڑ دیتے ہیں اور اگر شیطان سے مل جائے تو دونوں ملائکہ پر غالب آ جاتے ہیں کیونکہ وہ کہتے ہیں کہ جب یہ خود شیطان کے ساتھ مل کر اپنے آپ کو تباہ کر رہا ہے تو ہمیں بچانے کی کیا ضرورت ہے۔اس اندر کی جنگ کے مقابلہ میں دنیا کی کوئی بڑی سے بڑی جنگ نہیں آسکتی۔جرمنی اور فرانس میں جنگ ہورہی ہے یہ ایک دوسرے کو مارتے مارتے آخر کار صلح کر لیں گے۔لیکن جو انسان کے اندر جنگ ہوتی ہے اس کا یہ نتیجہ ہوتا ہے کہ وہ یا تو انسان کو خدا کے پاس جا بٹھاتی ہے۔ابد الآباد تک جہنم میں ڈال دیتی ہے۔اس لڑائی کے مقابلہ میں دنیا کی فوجیں چیز ہی کیا ہیں۔انسان کو خدا کا قرب حاصل کرنے کیلئے ہزاروں خواہشوں کا ہر روز خون کرنا پڑتا ہے اس کی تلوار کبھی میان میں نہیں ہوتی کیونکہ جب تک وہ قتل عام جاری نہ رکھے وہ کامیاب نہیں ہوسکتا۔اس کے مقابلہ میں بعض ایسے انسان جو کہ نیکوں کا خون کرتے ہیں اور اپنے نیک ارادوں اور خواہشوں کو بری باتوں پر قربان کر دیتے ہیں۔تو انسان کے اندر ایک بڑی بھاری جنگ شروع ہے اس لئے اس سے کسی وقت غافل نہیں ہونا چاہیئے۔اور تھوڑی سی کامیابی حاصل کر ے یہ نہ سمجھ لینا چاہیئے کہ اب اس جنگ کا فیصلہ ہو گیا ہے۔یہ فیصلہ اس وقت تک نہیں ہوتا جب تک کہ نفس امارہ ایسا پا مال نہ ہو جائے کہ