خطبات محمود (جلد 4) — Page 175
خطبات محمود جلد ۴ ۱۷۵ سال ۱۹۱۴ء کے منہ سے یہ نکل گیا اور اس نے جان کر ایسا نہ کہا تھا۔بہت سے موقعے ایسے ہوتے ہیں کہ انسان سمجھتا کچھ ہے اور کہہ کچھ جاتا ہے۔فرمایا کہ جب انسان میں یہ تین باتیں ہوں کہ ایک تو وہ خدا کا کلام سمجھتا ہو۔دوسرے اس کے معنے اور مطلب بھی سمجھتا ہو۔تیسرے تحریف بھی جان بوجھ کر کرتا ہو۔پھر ایسے انسان سے ایمان کی کیا امید رکھ سکتے ہو۔وہ تو گناہ کے اس درجہ کو پہنچ چکا ہے کہ اب اس سے واپس آنا اس کیلئے نام ممکن ہے۔یہ شرائط اس لئے لگائی ہیں کہ ممکن ہے کہ ایک آدمی تمام قرآن سے واقف نہ ہو۔اس لئے ایک آیت کی تفسیر میں ٹھو کر کھا جائے۔سارے قرآن کا جاننے والا تو کوئی ہو ہی نہیں سکتا۔پہلے مفسرین اور علماء کی آج ہمیں غلطیاں معلوم ہو رہی ہیں اور ممکن ہے کہ ہماری غلطیاں آئندہ آنے والی نسلوں کو معلوم ہوں۔قرآن خدا تعالیٰ کا کلام ہے بندے کا کیا مقدور ہے کہ اس سارے کا احاطہ کر سکے۔مگر اس قسم کے لوگ اس حد تک خوب سمجھتے ہیں جہاں تک کہ انہیں بیان کرنا ہوتا ہے۔لیکن پھر جان بوجھ کر شرارت کرتے ہیں۔ہمارے سلسلہ کے بھی بعض ایسے دشمن ہیں جو باوجود اصل معنی جاننے کے اور اور معنے کرتے ہیں۔بڑے بڑے مخالف حضرت صاحب کی تحریروں کا مطلب خوب سمجھتے ہیں لیکن ظاہر نہیں کرتے اور اس کا ایک ثبوت یہ ہے کہ ایسے لوگ کبھی مباہلہ کے میدان میں نہیں آتے۔خواہ انہیں کتنی ہی غیرت اور جوش دلا یا جاوے۔حضرت صاحب کی عبارات کو خوب سمجھتے ہیں کچھ اگلا اور کچھ پچھلا حصہ کاٹ کر شائع کر دیتے ہیں۔غرضیکہ بعض لوگ گناہ کی حد کو پہنچ جاتے ہیں جس کا نتیجہ انہیں بہت برا حاصل ہوتا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جو آدمی ہمارے کلام کو ہمارا کلام سمجھتا ہو پھر اس کے معنی بھی جانتا ہو۔پھر جان بوجھ کر لوگوں کو ایسے معنے بتائے جو اصل میں نہ ہوں تو ایسے آدمی کی نسبت ایمان لانے کا طمع رکھنا کچھ مفید نہیں ہو سکتا۔ایسا انسان ڈھیل کی حد کو طے کر چکا ہوتا ہے اس کیلئے ہدایت کی امید رکھنا فضول ہے۔اب اگر کوئی کہے کہ ایسے اشخاص کو بھی کچھ نہ کہو کیونکہ وہ شاید مان جائیں یا ایک شخص کہے کہ نبی کا انجام دیکھنا چاہئیے کیا ہوتا ہے۔تو ایسا آدمی پاگل ہے وہ شخص جو گمراہی کی آخری حد کو پہنچ چکا ہو وہ کبھی ہدایت نہیں پا سکتا۔اور جو نبی ہو اس کا انجام کبھی برانہیں ہوسکتا۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ کیا تم کارخانہ قدرت پر غور نہیں کرتے۔ہر ایک چیز کیلئے دو نقطے