خطبات محمود (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 173 of 574

خطبات محمود (جلد 4) — Page 173

خطبات محمود جلد ۴ ۱۷۳ سال ۱۹۱۴ء لے تو وہ بالکل سکتے ہو جاتے ہیں۔یہی حال روحانیت کا ہے۔روحانیت میں وہ درمیان کا راستہ جس کا خدا تعالیٰ نے ڈھیل نام رکھا ہے اس میں انسان کی کامیابی اور شکست حقیقی نہیں ہوتی۔اس سے اکثر لوگوں کو دھوکا لگتا ہے وہ چند روز اچھی طرح نمازیں پڑھ کر یا ایک مہینہ روزے رکھ کر خیال کرتے ہیں کہ ہم پاک اور معصوم بن گئے ہیں۔لیکن انہیں کیا معلوم ہوتا ہے کہ شیطان ان کی بغلوں میں باہیں دیئے کھڑا ہوتا ہے۔اور ان کو ایک ہی دھکا دے کر تحت القمری میں گرا دیتا ہے۔حدیثوں سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر انسان گناہ کرتا ہے تو اس کے دل پر سیاہ نقطہ پڑ جاتا ہے۔اور اگر نیکی کرتا ہے تو نور آ جاتا ہے۔آخر کاران دونوں میں سے کوئی غالب آجاتا ہے کہ ہاں انسان پر ایک وقت ایسا بھی آتا ہے جبکہ وہ شیطان کی زد سے محفوظ ہو جاتا ہے یا اس کے برخلاف اس کی حالت ایسی گر جاتی ہے کہ پھر سنبھلنے کے قابل نہیں رہتا۔کئی لوگ اپنے خیال میں دوسروں پر اس رنگ میں رحم کرتے ہیں کہتے ہیں ممکن ہے کہ وہ ہدایت پا جائیں۔اور بعض اس کی ضد میں یہ کہتے ہیں کہ نبی بھی تو انسان ہی ہوتا ہے وہ بھی زنا کا مرتکب ہو سکتا ہے۔یہ دونوں گروہ غلط اور بیہودہ خیالات رکھتے ہیں۔ایک رسول بے شک انسان ہی ہوتا ہے لیکن وہ اس حد سے گزر چکا ہوتا ہے جہاں تک کہ کسی گناہ کے کرنے کا امکان ہوتا ہے۔اسی طرح ابو جہل اور فرعون بھی بندے ہی تھے لیکن وہ گمراہی کی اس حد تک پہنچ چکے تھے جہاں سے واپس لوٹانا ممکن تھا۔اور ان کیلئے ہلاکت ہی ہلا کت تھی۔یہی مثال اس زمانہ میں دیکھ لوکہ لیکھرام کی نسبت حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا الہام تھا کہ ہلاک ہو جائے گا اس کیلئے کوئی شرط وغیرہ نہیں تھی کیونکہ یہ اس حد تک پہنچ چکا تھا کہ اس کے اندر نور کا پیدا ہونا ناممکن تھا۔اور جس طرح ایک ہاتھ خشک ہو جانے یا آنکھ کا نور ضائع ہو جانے کے بعد پھر طاقت اور نور پیدا نہیں کیا جا سکتا۔اسی طرح اس کا دل ایسا تاریک ہو گیا بھت کہ اس میں نور پیدا نہیں ہوسکتا تھت اس لئے خدا تعالیٰ نے حکم دیا کہ یہ بلا شک ہلاک کیا جائے گا۔یہ کوئی اس پر ظلم نہیں تھا بلکہ اس کے اعمال کا عین نتیجہ تھا لیکن آتھم اس کی طرح نہیں تھا س وہ ہلاکت کی حد سے کچھ ورے تھا اور اسے ابھی کچھ ڈھیل کا میدان اور عبور کرنا تھا اس لئے خدا تعالیٰ نے اس کیلئے شرط لگا دی کہ اگر یہ تو بہ کر لے گا تو ہلاک نہیں ہوگا ورنہ تباہ ہو جاوے گا۔اس نے پہلے تو کہ دیا کہ میں نے محمد ( رسول الله ال سی ایم ) کو دجال نہیں کہا۔لیکن جب اسے خدا تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی نیکی