خطبات محمود (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 167 of 574

خطبات محمود (جلد 4) — Page 167

خطبات محمود جلد ۴ 172 (۳۸) مومن عبرت کے سامان دیکھ کر ڈر جاتا ہے (فرموده ۴ ستمبر ۱۹۱۴ء) سال ۱۹۱۴ء حضور نے تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کے بعد اس آیت کی تلاوت کی:۔ثُمَّ قَسَتْ قُلُوبُكُمْ مِنْ بَعْدِ ذَلِكَ فَهِيَ كَالْحِجَارَةِ أَوْ أَشَدُّ قَسْوَةً وَإِنَّ مِن الْحِجَارَةِ لَمَا يَتَفَجَّرُ مِنْهُ الْأَنْهرُ وَإِنَّ مِنْهَا لَمَا يَشَقَّقُ فَيَخْرُجُ مِنْهُ الْمَاءُ وَإِنَّ مِنْهَا لَمَا يَهْبِطُ مِنْ خَشْيَةِ اللهِ وَمَا اللهُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُونَ ل پھر فرمایا:۔بہت سے لوگ ایک واقعہ کو دیکھ کر اس کو یادر کھتے ہیں اور اس سے بہت فائدہ اٹھاتے ہیں لیکن کچھ ایسی مخلوق بھی ہوتی ہے جو ایک نظارہ کو دیکھ کر جھٹ پٹ اسے فراموش کر دیتی ہے بھلا دیتی ہے اور ذہن سے اتار دیتی ہے۔ایسے لوگ ہمیشہ ٹھوکریں کھاتے رہتے ہیں۔انہیں ایک دفعہ نصیحت ہوتی ہے اس کو چھوڑ دیتے ہیں پھر ہوتی ہے پھر ترک کر دیتے ہیں اور ہر دفعہ انہیں نئے تجربہ اور نئی آزمائش کی ضرورت در پیش ہوتی ہے۔دانا انسان ایک تجربہ شدہ بات کو حاصل کر کے اس سے فائدہ حاصل کرنے کی کوشش شروع کر دیتا ہے مگر بیوقوف اور نادان انسان ہر دفعہ نیا تجربہ کرنا چاہتا ہے وہ کہتا ہے کہ ایک دفعہ اتفاقی طور پر یہ بات ہو گئی تھی۔جس قدر ترقی کرنے والی اور بڑھنے والی قومیں دنیا میں ہوتی ہیں ان کے کاموں کا دارو مدار اتفاقی باتوں پر نہیں ہوتا بلکہ وہ ہر ایک کام کی وجہ اور ذریعہ دریافت کرتی ہیں۔ایک