خطبات محمود (جلد 4) — Page 145
خطبات محمود جلد ۴ ۱۴۵ سال ۱۹۱۴ء ریز روفوج ہوتی ہے جو کہ سال میں ایک یا دو مہینے کام کرتی ہے۔اور جب جنگ کا موقع ہوتا ہے تو چونکہ ان کو مشق کروائی ہوئی ہوتی ہے اس لئے فوراً ان کو بلا لیا جاتا ہے۔چونکہ عام طور پر تمام مسلمان بارہ مہینے روزے نہیں رکھتے اور نہ ہی تہجد پڑھتے ہیں اس لئے رمضان میں خصوصیت فرما دی کہ تمام مسلمان اس ایک ماہ میں مشق کریں۔گو خدا تعالیٰ کا ایک گروہ ایسا بھی ہوتا ہے جو سارا سال ان باتوں میں لگا رہتا ہے۔تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تم یہ مشق کرو تا کہ تم مشکلات سے بچ جاؤ۔جس گورنمنٹ کی فوج مشق کرتی ہے رہتی ہے وہ دشمن سے شکست نہیں کھاتی۔اسی طرح جس قوم کے لوگ متقی اور نیک ہوتے ہیں۔اور جو خدا تعالیٰ کیلئے ہر ایک چیز کو چھوڑنے والے ہوتے ہیں شیطان کی مجال ہی نہیں ہوتی کہ ان کو زک دے سکے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ان دنوں میں جو جماعت بدی سے بالکل محفوظ رہتی ہے اس پر شیطان کو حملہ کرنے کا خیال بھی پیدا نہیں ہوتا کیونکہ شیطان بھی پلید اور نا پاک دلوں پر ہی حملہ کرتا ہے۔ایک شرابی دوسرے شرابی کو ہی شراب پینے کے لئے کہے گا لیکن اس کو یہ بھی جرات نہیں ہوگی کہ کسی متقی کو کہے تو جب تمام جماعت متقی ہو جاتی ہے تو شیطان بھی حملہ نہیں کر سکتا۔فرمایا کہ اگر تم ایسا کرو گے تو شیطان کے حملوں سے بچ جاؤ گے۔چونکہ تم میں سے ہر ایک فرد سپاہی ہوگا اور اس نے دشمن کا مقابلہ کرنے کے لئے مشق کی ہوئی ہوگی اس لئے شیطان کو حملہ کرنے کی جرأت ہی نہیں ہوگی۔یہی وجہ ہے کہ جب تک مسلمان تمام سپاہی تھے شیطان نے ان پر کوئی حملہ نہیں کیا لیکن جب خال خال رہ گئے تو اس وقت ان پر حملہ کیا گیا۔اور شیطان نے ان کے دل میں طرح طرح کے وسوسے ڈال کر ان کو تباہ کر دیا۔ایک زمانہ تو ایسا ہوتا ہے کہ جب خاص خاص لوگ خدا تعالیٰ کے حضور راتوں کو اُٹھ اُٹھ کر دعا میں کرتے ہیں لیکن یہ خدا تعالیٰ کی طرف سے فضل اور کرم ہے کہ اس نے ایک ایسا موقع بھی رکھ دیا ہے جس میں سب لوگ مل کر رات کو عبادت کر سکتے ہیں۔کیونکہ بہت سے لوگ ہوتے ہیں جو کہ ہمیشہ رات کو نہیں اٹھا سکتے۔چنانچہ بعض مزدوری پیشہ لوگ ہوتے ہیں جو کہ دن کو محنت کرتے ہیں اس لئے رات کو ان کا اٹھنا مشکل ہوتا ہے۔آنحضرت سیلیا کی تم نے ایسے لوگوں کو اجازت دے دی تھی کہ ہمیشہ تہجد نہ پڑھا کرو ۳ مگر رمضان میں تو سب کو اٹھنا پڑتا ہے اس لئے مل کر سب کی دعائیں اس وقت جب کہ خدا تعالیٰ نے کہا ہے کہ میں قبول کرتا ہوں قبولیت کے درجہ کو پہنچ جاتی ہیں۔چنانچہ روزوں کے ساتھ ہی خدا تعالیٰ فرماتا۔ہے