خطبات محمود (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 4 of 574

خطبات محمود (جلد 4) — Page 4

خطبات محمود جلد ۴ سال ۱۹۱۲ ء بچنے کیلئے خدا تعالیٰ ہی کی پناہ مانگنے کی تعلیم دی ہے۔جیسا کہ وَلَا الضَّالین کو سورہ فاتحہ کے اخیر میں رکھا ہے اسی طرح سے سورۃ الناس کو جس میں عیسائیوں کے فتنہ کا ذکر ہے قرآن شریف کے اخیر میں رکھا ہے اور سورۃ الناس سے ماقبل سورۃ الفلق کو سورہ فاتحہ کے اندرونی فتنہ کے بالمقابل رکھا ہے اور سورۃ فاتحہ میں اندرونی فتنہ کا جو مجمل بیان تھا اس کے کسی قدر آثار زیادہ بیان کر کے اسکی تشریح کردی۔فلق بمعنی خلق بھی آیا ہے۔مِن شَرِّ مَا خَلَقَ کہ کر تمام قسم کے فتنوں کا ذکر کر دیا کیونکہ فتنے جب تھوڑے ہوں تو گنتی بھی کی جاوے مگر فتنے جب حد سے بڑھ جاویں تو کہاں تک اس کو شمار کیا جاوے۔مَا خَلَقَ میں ہمارے اس زمانہ کی طرف اشارہ ہے کہ فتنہ اور فسادوں کی کوئی حد ہی نہ رہی۔وَمِن شَرِّ غَاسِقٍ إِذَا وَقَب میں غاسق چاند کو کہا ہے۔حدیث شریف میں آیا ہے کہ پیغمبر صلانی ایم نے چاند کی طرف دیکھا اور حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے فرمایا کہ اِسْتَعِيْنِى مِن هذَا فَإِنَّهُ فَاسِقٌ إِذَا وَقَبَ - س جب کسی قوم میں ہلاکت آتی ہے تو پہلے اس ہلاکت کا پیش خیمہ آپس کی ہی اندرونی پھوٹ اور آپس ہی کی اندرونی مخالفتیں ہوتی ہیں۔امراء امراء کے علماء علماء کے مخالف ہو جاتے ہیں اور ایک دوسرے کے سخت جانی دشمن ہو جاتے ہیں۔پھر بعد میں بیرونی فتنہ کو اندرونی فتنہ پر غلبہ پانے کی راہ کھل جاتی ہے۔گو یا جب کوئی قلعہ اندر اور باہر دونوں طرف سے مضبوط ہوتا ہے تو دشمن دفعہ اس پر حملہ آور نہیں ہوتا۔جب قلعہ کی اندرونی حالت خراب ہو جاتی ہے۔تو پھر دشمن کو بھی ہمت مل جاتی ہے خدا کسی قوم کو نہیں بگاڑتا جب تک کہ وہ بگڑنے کے سامان اپنے ہاتھوں سے پہلے آپ نہ کرلیں۔اِنَّ اللهَ لا يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّى يُغَيِّرُوا مَا بِأَنْفُسِهِمْت وَمِن شَر النفقت في العقد میں شاعروں کی طرف بھی اشارہ کیا ہے کیونکہ پھونک مارنے والے کی طرح شاعر بھی اپنے منہ میں اندر ہی اندر اشعار کی پھونک پھانک لگاتا رہتا ہے اور یوں اللہ تعالیٰ اور بندے کے درمیان جو عقد اور رشتہ ہوتا ہے اس کو توڑنا چاہتا ہے ہے۔وَمِن شَرِّ حَاسِدٍ اِذَا حَسَد کا بازار اس قدر گرم ہو گیا ہے کہ ایک سلطنت دشمن کے حملہ سے تباہ ہو جاتی ہے تو دوسری سلطنت اس کے پہلو میں بولتی تک نہیں ، بالکل خاموش بیٹھی دیکھتی ہے کہ اچھا ہے کمزور ہوئے۔مسلمانوں کو چاہیے کہ اس سورۃ کو کثرت سے پڑھیں اور اللہ تعالیٰ سے ان الفاظ میں دعا کریں بَارَكَ اللهُ لَنَا وَلَكُمْ مِنَ الْقُرْآنِ الْعَظِيمِ وَ