خطبات محمود (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 112 of 574

خطبات محمود (جلد 4) — Page 112

خطبات محمود جلد ۴ ۱۱۲ سال ۱۹۱۴ء سکھوں کے زمانے میں مسلمانوں کو اذان دینے سے روک دیا گیا تھا۔اب بعض جگہوں میں دیکھا ہے کہ حاکم بھی مسلمانوں کو کہتے ہیں کہ اذان دو تو وہ چونکہ ڈرے ہوئے ہیں اس لئے اذان نہیں دیتے۔ایسے لوگوں کے ایک مدت کے بعد حکومت کے قومی بالکل باطل ہو جاتے ہیں۔اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل سے فرمایا کہ وہ یروشلم کو جاویں تا شام کا ملک ان کے ہاتھ پر فتح ہو اور ان کو حکومت ملے۔وہ چار سو سال یا اڑھائی سو سال فرعون کے ماتحت رہ کر طرح طرح کے ظلم سہنے کے عادی بن چکے تھے۔اور ان میں حکومت کے قومی بالکل نہیں رہے تھے۔اس لئے اللہ تعالیٰ نے ان کو ایک مدت باہر جنگل میں رکھا کہ وہ آزا در ہیں کسی کے ماتحت نہ ہوں۔اور ان کے دلوں سے محکومیت کا خیال نکل جاوے اور محنت نہ کرنے سے ان کے قومی مضبوط ہو جاویں۔جب موسیٰ علیہ السلام نے دعوی کیا تو فرعون نے بنی اسرائیل پر اور زیادہ محنتیں اور مشقتیں ڈال دیں کہ بیکار رہنے سے ان کے خیالات ایسے ہو گئے ہیں اور یہ سلطنت لینا چاہتے ہیں اس لئے اللہ تعالیٰ نے ان کو فرعونیوں سے نجات دلوا کر آزاد کیا۔اور ان پر بارشیں اتاریں اور بادلوں کے سائے بھیجے۔عماد میرے خیال میں اس کے معنی بارش کے ہی ہیں۔کیونکہ اگر ہر وقت بادل ہی بادل رہیں تب تو وہ لوگ تباہ ہو جاویں۔اس سے مراد بارش ہی ہے کیونکہ آگے اس کے کھانے کا ذکر ہے اور وہاں اللہ تعالیٰ نے ان کیلئے کثرت سے جانور پیدا کر دیئے۔مج بلا محنت کے جو چیز مل جاوے۔مختلف قسم کے پھل۔نبی کریم سالی یہ تم نے فرمایا ہے کہ گھمبیاں بھی من ہیں کیونکہ یہ جنگل میں بکثرت پیدا ہو جاتی ہیں۔قحط کے دنوں میں اکثر ایسی چیزیں بافراط پیدا ہوتی ہیں۔سلوی۔بٹیر اور تیتر یا ان کی قسم کا دوسرا کوئی جانور۔جس سال زلزلہ آیا اور حضرت صاحب ان دنوں شہر سے باہر تشریف لے گئے تھے۔ان دنوں میں تیتر بہت کثرت سے پیدا ہو گئے تھے ، بعد میں اتنے کبھی دیکھنے میں نہیں آئے۔اللہ تعالیٰ اب اہل کتاب کو اپنا احسان بتلاتا ہے کہ دیکھو ہم نے تمہیں ایسی ایسی نعمتیں دیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو بھی الہام ہوا تھا کہ۔آگ ہماری غلام بلکہ غلاموں کی غلام ہے ۲۔اس سے ہم سمجھ سکتے ہیں کہ جو لوگ کہتے ہیں کہ فلاں بزرگ کیلئے آسمان سے دستر خوان آتا