خطبات محمود (جلد 4) — Page 105
خطبات محمود جلد ۴ ۱۰۵ سال ۱۹۱۴ء ہو پس اب اس کا علاج یہ ہے کہ اپنے رب کی طرف جھک جاؤ اور اپنے رشتہ داروں کو جنہوں نے شرارت میں زیادہ حصہ لیا ہے قتل کر دو۔یہی تمہارے لئے بہتر ہے تمہارے رب کے نزدیک۔اگر تم ایسا کرو گے تو خدا بھی تمہاری طرف جھک جائے گا اور تمہیں باوجود اتنی شرارتیں کرنے کے بھی معاف کر دے گا کیونکہ وہ بڑا معاف کرنے والا اور رحم کرنے والا ہے۔جب موسیٰ علیہ السلام واپس آئے تو انہوں نے دیکھا کہ شرارت بہت بڑھ گئی ہے تو انہوں نے حکم دیا کہ اس شرارت کے جولوگ سرغنے ہیں ان کو تلاش کرو جب سرغنے پکڑے گئے تو انہوں نے حکم دیا کہ ان کے رشتہ دار ہی ان کو قتل کریں۔فَاقْتُلُوا انْفُسَكُمْ کے یہی معنی ہیں کہ اپنے اپنے رشتہ داری کو مارو۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ شرارت تو تم سب نے کی تھی۔لیکن تمہارے بڑے بڑے سرغنوں کو ہی سزا دے کر باقیوں کو ہم نے چھوڑ دیا۔مگر پھر بھی تم نے اپنی شرارتوں کو نہ چھوڑا۔ہم نے تو تمہاری شرارتوں کے باوجود بھی تم سے تعلق نہ توڑا۔اور اگر پھر بھی تم تو بہ کرتے تو ہم معاف کر دیتے۔خدا تعالیٰ اور خدا کے نیک بندے کسی سے خود فورا اقطع تعلق نہیں کرتے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مولوی محمد حسین بٹالوی کی نسبت ایک کتاب میں لکھا ہے کہ تو نے ہی محبت کا درخت کاٹا ہے میں نے نہیں کاٹا۔۲؎ تم اس بات کو یاد رکھوکہ تم اللہ تعالیٰ سے تعلق رکھو گے تو وہ کبھی تم سے اپنا تعلق قطع نہیں کرے گا۔جب کبھی کسی قوم کا تعلق خدا سے کٹا ہے اس کے اپنے ہی نفسوں کی غلطیوں سے کٹا ہے۔اگر انسان اپنے نفس کی غلطیوں کے متعلق احتیاط سے کام لے تو خدا تعالیٰ ضرور اس پر رحم کرتا ہے۔تم بنی اسرائیل ہی کو دیکھو، کتنی شرارتیں اور بدیاں انہوں نے کیں لیکن پھر بھی اللہ تعالیٰ اپنے رحم سے انہیں معاف ہی کرتا رہا۔جب انسان کو کسی قسم کی سزا ملے تو اس کو یہی سمجھنا چاہیئے کہ یہ کسی میرے اپنے ہی قصور اور گناہ کی وجہ سے ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرمایا کرتے تھے کہ رنجیت سنگھ کا ایک بیٹا تھا۔ایک دن اس کے باورچی سے کھانے میں نمک زیادہ پڑ گیا اس نے حکم دیا کہ اس کی کھال اُتروا دو۔وزیر نے یہ حکم سن کر عرض کیا کہ اس چھوٹے سے قصور پر اتنی بڑی سزا دینا ظلم ہے۔اس سے لوگوں میں نفرت پیدا ہو جائے گی۔تو اس نے کہا کہ تم جانتے نہیں اس باورچی نے تو میرا سو بکرا کھالیا ہے ،نمک کا زیادہ پڑنا تو اس کو سزا دینے کا بہانہ ہے۔حضرت مسیح موعود فرماتے ہیں کہ انسان