خطبات محمود (جلد 4) — Page 100
خطبات محمود جلد ۴ سال ۱۹۱۴ء اس زمانہ میں بھی خدا تعالیٰ نے اپنے فضل اور کرم سے ہم میں ایک نبی مبعوث فرمایا ہے گو لوگ نبی کے لفظ سے گھبراتے ہیں مگر میں سمجھتا ہوں کہ اگر ہم میں نبی نہیں آیا تو مرنے کا مقام ہے۔مجھے خود خدا تعالیٰ نے بغیر فرشتہ کے واسطہ کے بتایا ہے کہ تم میں ایک نبی آیا ہے اور آئندہ بھی آئیں گے۔میں تو کبھی اس سے انکار نہیں کر سکتا میں اس بات کو نہیں سمجھ سکتا کہ ایک امتی نبی کی عزت بڑھ جاتی ہے لیکن اس کی نبوت میں کوئی کمی واقع نہیں ہو سکتی۔ایک موٹی مثال سے یہ بات سمجھ میں آسکتی ہے۔مثلاً زید کو کہیں سے گرے پڑے دس ہزار روپے مل جائیں اور بکر کو عمر دس ہزار روپے دے دے۔تو اس طرح جس نے بکر کو روپے دیئے ہیں اس کا تو مرتبہ بڑھ گیا ہے۔لیکن لینے والا مال کے لحاظ سے اس سے کسی طرح کم نہیں ہے جس کو گرے ہوئے روپے مل گئے ہیں۔کیونکہ اس کے پاس بھی دس ہزار روپیہ ہے اور دوسرے کے پاس بھی دس ہزار ہی۔مسیح موعود کے امتی نبی ہونے کی وجہ سے رسول کریم سی ایم کا رتبہ تو بڑھ گیا ہے لیکن مسیح موعود علیہ السلام کے نبی ہونے میں کسی قسم کی کمی واقع نہیں ہوسکتی۔ہم میں بھی خدا تعالیٰ نے ایک شخص کو مبعوث فرمایا ہے جس نے لوگوں کو بد بختیوں ، وساوس، بدیوں اور بدکاریوں کی قید سے چھڑایا ہے۔فرعون تو بچوں کو قتل کرتا اور عورتوں کو قید کرتا تھا لیکن اس زمانہ میں عورتیں ، مرد، بچے ، بوڑھے اور جو ان سب تباہ ہو رہے تھے۔بنی اسرائیل تو فرعون کی قید میں تھے لیکن آج کل لوگ شیطان کی قید میں تھے۔علم کی جہالت نے ، آزادی کی جگہ غلامی نے لے رکھی ہے۔ان قیدوں سے ہمیں ایک شخص نے چھڑایا ہے۔اگر ہم اس سے تعلق قائم رکھیں گے تو فَضَّلْتُكُمْ عَلَى العالمین میں شامل ہو جائیں گے ورنہ جو لوگ قطع تعلق کریں گے ان کا وہی حال ہو گا جو کہ یہودیوں کا ہوا تھا۔سو تم اس تعلق کو مضبوط کرو۔اور جس قدر ہو سکے مونہوں سے، ہاتھوں سے، پاؤں سے، دانتوں سے اس رسی کو مضبوط پکڑے رہو۔خدا تعالیٰ بڑی آسانیاں پیدا کر دیگا اور تم پر کامیابیوں کے دروازے کھل جائیں گے۔کوئی قوم دنیا میں تمہارا مقابلہ نہیں کر سکتی کیونکہ تم نے ایک رسول اور نبی کو مانا ہے اور دوسروں نے انکار کیا ہے۔خدا تعالیٰ نے تمہیں خزانے میں داخل کر دیا ہے لیکن وہ باہر ہی بیٹھے ہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عباس رضی اللہ عنہ کو مال دینے کا وعدہ کیا ت تھا پھر ایک دن جب بہت سا مال آیا تو آپ مسجد میں بیٹھے تھے۔فرمایا کہ آپ جس قدر مال