خطبات محمود (جلد 4) — Page 99
خطبات محمود جلد ۴ ۹۹ سال ۱۹۱۴ء اللہ تعالیٰ نے ان کو پچھلے مصائب یاد دلائے کہ تمہاری کیا حالت تھی لیکن جب تم نے نبی کی فرمانبرداری کی تو آرام و آسائش میں ہو گئے۔اب بھی نبی آیا ہے اگر اس کی اطاعت کرو گے تو پھر وہی انعامات تم پر کئے جاویں گے۔ورنہ پھر اسی طرح کر دیئے جاؤ گے۔قوم فراعنہ ان پر بڑے ظلم کرتی تھی اور چونکہ فرعون کے لوگ اصل مصری باشندے نہ تھے اس لئے ان کو ہر وقت خطرہ رہتا تھا کہ ہم سے کوئی ملک نہ چھین لے اس لئے وہ باہر سے آنے والی قوموں سے لڑتے رہتے تھے۔جس طرح ہندوستان پر جب یورپ کی مختلف قوموں نے قبضہ کیا تو وہ آپس میں ہی لڑتے رہے کیونکہ وہ جانتے تھے کہ اصل باشندے تو اس قابل نہیں کہ مقابلہ کر سکیں۔اگر کسی سے خطرہ ہوسکتا ہے تو وہ باہر سے آنے والوں سے ہی ہوسکتا ہے۔اسی طرح فرعون کی قوم نے حکم دے رکھا تھا کہ بنی اسرائیل کے بچے قتل کر دیئے جایا کریں تاکہ ان کی تعداد کم ہوتی جاوے۔بعض لوگوں کو غلطی لگی ہے اور وہ کہتے ہیں کہ موسیٰ علیہ السلام کے مصر میں آنے کے بعد بھی ایسا ہوتا رہا ہے لیکن یہ غلط ہے البتہ فرعون نے اس قسم کا ارادہ کیا تھا لیکن وہ اس وقت اس میں کامیاب نہ ہو سکا۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مصر کے اصل باشندے بہت کمزور اور ذلیل حالت میں تھے کیونکہ وہ ان سے ڈرتے نہیں تھے اور باہر والوں سے لڑتے رہتے تھے۔خدا تعالیٰ نے یہاں یہ لطیف نکتہ بیان فرمایا ہے کہ يُذبّحُونَ أَبْنَاءَ كُمْ وَيَسْتَحْيُونَ نسائكم یعنی ذبح کرتے تھے تمہارے بیٹوں کو اور زندہ رکھتے تھے تمہاری عورتوں کو اور یہ نہیں فرمایا کہ يُذَبِّحُونَ رِجَالَكُمْ وَيَسْتَحْيُونَ نِسَائِكُمْ کہ تمہارے مردوں کو قتل کرتے اور عورتوں کو زندہ رکھتے تھے اور نہ اس طرح فرمایا کہ لڑکوں کو قتل کرتے اور لڑکیوں کو زندہ رکھتے تھے۔اس میں یہ حکمت ہے کہ جولڑ کا قتل ہو جاتا ہے اس کی وہی عمر رہتی ہے اور وہ کسی کا باپ نہیں بن سکتا۔بیٹا ہی رہتا ہے۔اس لئے خدا تعالیٰ نے اس کی وہی عمر بیان فرمائی ہے اور چونکہ وہ لڑکیوں کو زندہ رکھتے تھے جو کہ بڑی ہو کر ان کی بیویاں بنتی تھیں اور عورتیں ہی بنانے کو وہ مدنظر رکھتے تھے اس لئے ان کی اصل عمر بیان فرمائی۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تم حکومت کا مقابلہ نہیں کر سکتے تھے وہ تم پر ظلم کرتی تھی لیکن ہم نے تم کو چھڑایا۔اور یہ تم پر انعام کیا کہ ایسی خطرناک حکومت سے نکال کر لے آئے۔اب اگر نبی کی اطاعت نہیں کرو گے تو پھر اسی طرح کر دیئے جاؤ گے۔