خطبات محمود (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 1 of 574

خطبات محمود (جلد 4) — Page 1

خطبات محمود جلد ۴ (1) انسانی ترقی کے تین درجات فرموده ۲۹ جولائی ۱۹۱۰ء۔بمقام قادیان) سال ۱۹۱۰ء تشهد، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد آیت قرآنی اِنَّ اللهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ ا پڑھ کر حضرت صاحبزادہ صاحب نے فرمایا:۔دنیا میں ہر چیز کے تین ہی درجے بیان ہوتے ہیں۔ادنی ، اوسط، اعلیٰ اسی طرح اس آیت میں انسانی ترقی کے تین درجے بیان فرمائے ہیں جو انسان ان تین درجوں کو طے کرتا ہے اسے ساتھ ترک شر کے بھی تین درجے حاصل ہو جاتے ہیں۔سب سے اول ادنی درجہ تو یہ ہے کہ انسان عدل کرے۔جس کا جتنا حق ہو اس کو اتنا ہی دے۔دوسرا درجہ یہ ہے کہ جو حق ہے اسی پر کفایت نہ کرے بلکہ حق سے زیادہ دے۔اس کا نام احسان ہے۔تیسرا درجہ یہ ہے کہ انسان خدا کے ہاتھ میں کل کی طرح کام کرنے والا ہو۔اور اس کو بلا کسی خیال و معاوضہ کے نفع رسانی کی دُھن لگی رہے۔جب انسان عدل پر قائم ہوتا ہے تو بغی سے بھی بچتا ہے جس میں کھلی کھلی سرکشی پائی جاتی ہے اور جب احسان کی راہوں پر قدم مارتا ہے تو ایسے امور سے محفوظ رہتا ہے جن کا نقصان صرف اسی کو نہ ہو بلکہ وہ دوسروں کیلئے مضر اور غیروں کی نظر میں بھی ناپسند ہوں۔اور جب ایتاء ذی القربی والی حالت وارد ہوتی ہے تو پھر اسے ان چھوٹے چھوٹے گناہوں پر بھی آگاہی ہوتی ہے اور ان سے پاک رہنے کی کوشش کرتا ہے جو انسان کے نفس کے ساتھ تعلق رکھتے ہیں اور زبان شریعت میں فحشاء کہلاتے ہیں۔یہ صرف قرآن کا خاصہ ہے کہ جب وہ کسی