خطبات محمود (جلد 4) — Page 63
خطبات محمود جلد ۴ ۶۳ سال ۱۹۱۴ء کیلئے ملتا ہے اور ان کے خاوندوں کو بھی کئی کئی سال باہر رہنا پڑتا ہے اس لئے پھر ان میں بھی زنا کثرت سے پھیل جاتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو ایک عجیب طرح سے اس بات سے بچالیا اور ان کے ساتھ اپنا وعدہ پورا کیا۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ رات کو دورہ کیا کرتے تھے۔ایک دفعہ رات کو شہر میں پھر رہے تھے تو آپ نے ایک عورت کو سنا کہ وہ عشقیہ شعر پڑھ رہی ہے۔آپ نے دن کو تحقیقات کی تو معلوم ہوا کہ اس کا خاوند مدت سے باہر رہتا ہے۔آپ نے پھر یہ حکم دے دیا کہ کوئی سپاہی چار ماہ سے زیادہ باہر نہ رہے۔اگر کوئی سپاہی زیادہ مدت تک باہر رہنا چاہتا ہوتو اپنی بیوی کو بھی اپنے ساتھ رکھے۔ورنہ چار ماہ کے بعد اسے فوج کا افسر مجبور اواپس گھر بھیج دے ہے۔اس ذریعہ سے اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو زنا سے بچالیا اور ان کی بیویوں کو مطہر رکھا۔پس جب تک وہ لوگ جیئے یہ وعدہ تھا ان میں سے ایک بھی زندہ رہا تو یہ وعدہ ان سے پورا ہوتا رہا۔پھر جب ایسے لوگ پیدا ہو گئے کہ وہ اس کے اہل نہ تھے اور ان میں وہ ایمان نہ تھا جو پہلوں میں تھا تو یہ وعدہ ان سے پورا نہ ہوا۔یہ ایک پیشگوئی ہے جس میں اس بات کا ذکر نہیں کیا گیا کہ وہ ملک کب ملے گا اور وہ کون سا ملک ہے۔حضرت مسیح موعود پر یہ ایک اعتراض کیا گیا ہے کہ آپ نے جو پیشگوئی کی تھی کہ میرا دشمن ہلاک ہو گا آپ نے اس میں وقت اور تاریخ نہیں بتلائی اس لئے ہم آپ کی پیشگوئی کو قابل اعتبار نہیں سمجھتے کیونکہ اگر کسی کو بخار ہو گیا سر درد ہو گیا یا کوئی اور بیماری ہوگئی تو آپ تو کہ دیں گے کہ یہ پیشگوئی پوری ہوئی۔یہ اعتراض ہمیشہ سے چلا آ رہا ہے۔فرمایا کہ لوگ اعتراض کریں گے کہ ذراسی فتح مل گئی تو کہہ دیا کہ دیکھو ہمیں فتح مل گئی۔ایک انگریز آرنلڈ نامی نے اپنی ایک کتاب میں لکھا ہے کہ آپ نے کوئی وقت اور مقام ہے مقر ر نہیں کیا تھا اس لئے آپ کی فتح پر اعتراض ہونے میں بھی ایک سنت اللہ ہے۔إِنَّ اللهَ لَا يَسْتَحْيِ أن يَضْرِبَ مَثَلًا مَّا بَعُوضَةً فَمَا فَوْقَهَا - اللہ تعالیٰ ایک مچھر کی مثال بیان کرنے سے نہیں رکتا۔مومن اسے کہتے ہیں کہ یہ حق ہے لیکن بر خلاف اس کے منکرین یہ کہتے ہیں کہ یہ کیا مثال دی ہے اس سے اللہ تعالیٰ کی یہ مراد ہے کہ پیشگوئی میں ہمارا یہ بھی طریقہ ہے۔مسلمان مومن تو سمجھ لیتے ہیں اور مان لیتے ہیں لیکن منکر اعتراض کرتے رہتے ہیں اور گمراہ ہی رہتے ہیں۔خدا تعالیٰ نے کہا تھا کہ فلاں سے تعلق رکھو وہ اس سے قطع تعلق کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم نے تو اس کے خلاف ہی کرنا