خطبات محمود (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 533 of 574

خطبات محمود (جلد 4) — Page 533

خطبات محمود جلد ۴ ۵۳۳ سال ۱۹۱۵ نہیں اور غور نہیں کرتا۔لیکن اسلام ایک ایسا مذہب ہے کہ اس کی باتوں پر جتنا بھی کوئی غور کرے اور سوچے اتنا ہی اس کے دل پر اس کی سچائی اور صداقت نقش ہوتی جاتی ہے اور شرح صدر ہوتا جاتا ہے اور بار یک در بار یک باتیں کھلتی جاتی ہیں۔یہی اسلام اور دیگر مذاہب میں ایک بہت بڑا فرق ہے کہ ان پر غور وفکر کرنے سے انسان کشیدہ خاطر ہوتا اور جس قدر زیادہ غور کرے اتناہی زیادہ بدظن ہوتا جاتا ہے۔لیکن اسلام کے مسائل پر جتنا بھی زیادہ غور کیا جائے اتنا ہی زیادہ گرویدہ ہوتا ہے یہی وجہ ہے کہ اگر کوئی اسلام کے متعلق شک میں ہوتا ہے یا کسی بات کو غلط سمجھتا ہے تو اسی لئے کہ اس نے اسلام کے متعلق غور نہیں کیا ہوتا اور اچھی طرح سوچانہیں ہوتا۔تو اس آیت کے یہ معنے ہیں کہ اے مسلمان! کیا ہم نے تجھے اسلام جیسے مذہب پر کھڑا نہیں کیا۔اور براہین اور دلائل سے تیرا شرح صدر نہیں کیا۔ضرور کیا ہے تو جب تجھ کو ہم سے یہ نعمت حاصل ہوئی ہے تو تجھے معلوم ہے کہ تیرا فرض کیا ہے تو دیکھ ایک کافر جس کو ورثہ میں اپنا مذہب ملا ہوتا ہے اور وہ اس کے بچے ہونے کی کوئی دلیل اپنے پاس نہیں رکھتا وہ اپنے مذہب کے پھیلانے کے متعلق کیا کیا کوششیں کر رہا ہے تو پھر تو جو اسلام کو سچا سمجھتا ہے اور ورثہ کے طور پر نہیں بلکہ دلائل اور براہین کے ساتھ، تو تجھے اس کے پھیلانے کیلئے کس محنت اور ہمت سے کام کرنا چاہیئے۔خدا تعالیٰ نے پہلی حجت ہر ایک مسلمان پر اس طرح فرمائی کہ آلَهُ نَشْرَحْ لَكَ صَدْرَكَ كيا اسلام کی وجہ سے ہم نے تیرا سینہ نہیں کھول دیا۔یعنی اسلام کے متعلق سب باتوں کے تجھے براہین اور دلائل دے دیئے ہیں۔اب تو سمجھ کہ تجھے کس محنت اور کوشش سے کام لینا چاہیئے۔پھر فرما یا : وَوَضَعْنَا عَنْكَ وِزْرَكَ الَّذِى اَنْقَضَ ظَهْرَكَ۔جب انسان کو کوئی کام بتایا جائے تو اس کو یہ مشکل پیش آتی ہے کہ اب میں اسے کروں تو کیونکر کروں۔اس وقت اس کی کے سامنے دو باتیں ہوتی ہیں ایک یہ کہ جس طرح میں کام کرنا چاہتا ہوں یہ درست اور ٹھیک ہے یا نادرست اور غلط۔دوسری یہ کہ کونسا طریق ایسا ہے کہ میں اس آسانی سے کر سکوں اور نا واقعی کا جو بوجھ مجھ پر پڑا ہوا ہے اس کو اتار دوں۔واقعہ میں جب تک کسی کام کے کرنے کا طرز اور طریق معلوم نہ ہو انسان پر ایک بہت بڑا بوجھ ہوتا ہے لیکن جب اس کے کرنے کا