خطبات محمود (جلد 4) — Page 508
خطبات محمود جلد ۴ ۵۰۸ سال ۱۹۱۵ رسالت کا انکار کرتا ہے تو دوسرا اس کا اثبات کرتا ہے۔پھر اگر کوئی شخص لغو سا سوال بھی پیش کرتا ہے تو دوسرا اس کا جواب دینے کے درپے ہوتا ہے۔گویا ایسے اہم مسائل میں پڑ کر وہ اللہ تعالیٰ اور اسکی آیات اور رسولوں کے انکار کے بڑے بڑے دلائل دیں گے اور استہزاء کریں گے۔لیکن استہزاء کے طور پر کبھی کسی نے یہ نہیں کہا کہ اس بات کو بدلائل ثابت کرو کہ تم حرام زادے ہو یا تمہاری بہن بدکار اور حرام کا رتھی یا تمہاری ماں ایسی تھی یا تمہارا فلاں رشتہ دار ایسا بد کار ہے۔جب تم اپنے متعلق استہزاء کے طور پر اس قسم کے مباحثات اور مناظرات کو روانی زبان اور مشق کیلئے نہیں کرتے تو کیا خدا تعالیٰ اور اس کے رسول اور اس کے آیات ہی تمہاری مشق اور استہزاء کیلئے رہ گئے ہیں۔کیا تم میں سے کوئی پسند کرتا ہے کہ اپنے آقا رب کے متعلق ایسی لغو اور بیہودہ مسائل کو بدلائل ثابت کرے؟ جب تم اپنے نفسوں کیلئے استہزاء کے طور پر یہ پسند نہیں کرتے۔اور اگر ایسا کرو بھی تو ایک منٹ میں تم خون خون ہو جاؤ تو پھر بتلاؤ کیا خدا اور اس کے رسول اور آیات اور قرآن کریم اور مسیح موعود کے دعاوی کا انکار اور اثبات ہی تمہاری استہزاء کیلئے رہ گئے ہیں۔ایسے عظیم الشان مسائل میں جو لوگ اپنے آپ کو اس کا اہل سمجھتے ہیں اور اس کے متعلق مباحثات اور باتیں کرتے ہیں وہ کبھی نور معرفت اور روحانیت کو نہیں پاسکتے ، روحانیت کی ترقی اس سے قطعا رک جاتی ہے۔دیکھو! جب سے مسلمانوں نے یہ رنگ اختیار کیا ہے اس کی ترقی بالکل مسدود ہو گئی ان کا ہمیشہ یہی دستور رہا اور اب بھی یہی ہے کہ جہاں کسی نے بات کی اس پر اعتراض شروع کر دیئے اور جہاں کسی نے خدا تعالیٰ کی ہستی یا رسالت یا کسی اور مسئلہ پر تقریر کی اعتراض اور جرح شروع کر دی۔اور اگر ان کو کہا جائے کہ تم خدا تعالیٰ کی ہستی کے دلائل دو یا قرآن کریم کی صداقت کے دلائل بتلاؤ تو جواب کے وقت مبہوت ہو جائیں گے، اعتراض تو ہزاروں کر دیں گے مگر جواب نہ دے سکیں گے۔میں جب خلیفتہ المسیح الاول کے پاس پڑھا کرتا تھا تو پہلے پہلے مجھے بھی اعتراض کرنے کا بڑا شوق رہتا تھا۔چنانچہ میں نے ایک دو بار جب اعتراض کئے تو حضرت خلیفہ لمسیح الاول نے مجھے اعتراض کرنے سے روک دیا۔پھر جب میں نے مثنوی ۵ پڑھی تو بعض وقت مجھے بہت ہی مشکلات پیش آتیں مگر میں اعتراض نہ کیا کرتا۔پھر خدا تعالیٰ مجھے خود ہی سمجھا دیا کرتا تھا۔انسان جب خدا تعالیٰ کیلئے کوئی کام کرتا ہے تو خدا تعالیٰ خود اس کی تائید فرما دیتا ہے۔اس کی کیا وجہ تھی کہ