خطبات محمود (جلد 4) — Page 500
خطبات محمود جلد ۴ ۵۰۰ سال ۱۹۱۵ء پاگل نہیں کہا کرتے۔جس قدر ایجاد یں ہیں اگر ان کے موجد ان کے پیچھے نہ پڑتے اور مصائب اور مشکلات کو برداشت کر کے ان کو حاصل نہ کرتے اور پیچھے ہٹ جاتے تو آج دنیا کے لوگ کیونکر یہ آرام اور آسائش کے سامان حاصل کرتے اور وہ خود کیونکر چین سے اپنی زندگی بسر کرتے۔ان لوگوں نے بڑے استقلال اور ہمت سے اپنے مقصد کو حاصل کرنے کیلئے تمام ابتلاؤں اور مشکلات اور مصائب کا مقابلہ کیا اور ہمت نہیں ہارے اور کسی کی پرواہ نہیں کی کہ کوئی ان کے متعلق کیا کہتا ہے۔کولمبس نے جس وقت امریکہ کی طرف سفر کرنے کا ارادہ کیا تو اس وقت اسے بھی لوگ پاگل کہتے تھے اور کہتے تھے کہ دیکھو یہ پاگل کہتا ہے کہ اس سمندر کے دوسری طرف بھی کوئی اور خشکی ہے چنانچہ جب اس نے ملکہ سپین سے مدد طلب کی اور یہ معاملہ مجلس امراء کے سامنے پیش ہوا تو سپین کے کارڈ نیل نے کارڈ نیل وہ پادری ہوتا ہے جو پوپ کی طرف سے کسی ملک کے مذہبی معاملات کے تصفیہ کیلئے سب سے بڑا حا کم ہوتا ہے ) اس پر مجنون یا کافر ہونے کا فتویٰ دیا اور کہا کہ دیکھو یہ شخص زمین کے گول ہونے کا قائل ہے۔گویا اس کا خیال ہے کہ ہماری زمین کے نیچے اور ملک ہے اور وہاں جو لوگ رہتے ہیں ان کی ٹانگیں اوپر اور سر نیچے اور درختوں کی جڑیں اوپر کی طرف ہیں تو شاخیں نیچے کی طرف۔ان مشکلات کے ہوتے ہوئے اگر کولمبس اپنی تحقیقات کو چھوڑ دیتا تو وہ عزت و شہرت جو اس نے حاصل کی اس کو کیسے ملتی۔جس زمانہ میں سپین کی حکومت مسلمانوں کے ہاتھ میں تھی اس وقت کے ایک عالم گزرے ہیں روحانی اور جسمانی علوم کے واقف تھے جن کا نام محی الدین ابن عربی ہے وہ کہتے ہیں کہ مجھے کشف میں دکھایا گیا ہے کہ اس سمندر کے پرے ایک بہت بڑا وسیع ملک ہے اور بیان کیا گیا ہے کہ کولمبس نے آپ کے سلسلہ کے کسی آدمی سے ہی پہلے پہل سنا تھا کہ زمین گول ہے اور چین کے پرے سمندر کے ختم ہونے پر ایک بہت بڑا ملک ہے لیکن لوگوں نے اس وقت اسے پاگل قرار دیا اور اس کو کا فر کبھی کہا۔ایک بات اس کے ذہن میں آگئی جس پر اس نے بڑے استقلال اور ہمت سے کام کیا اور کسی کی ہے پرواہ نہ کی۔غرض دنیا کے کاموں میں جن میں یہ خیال ہو سکتا ہے کہ شاید آخر میں کامیابی نہ ہو ، ہمت والے لوگ راستہ کی مشکلات سے نہیں گھبراتے تو پھر انبیاء علیہم السلام کو دنیا کی ہدایت کیلئے خدا تعالیٰ بھیجتان ہے۔ان کے سلسلہ کی اشاعت میں مایوس ہو کر بیٹھ جانا کیسی نادانی کی بات ہے۔اگر دنیا اس قابل نہ