خطبات محمود (جلد 4) — Page 460
خطبات محمود جلد ۴ ۴۶۰ سال ۱۹۱۵ بہت سی ضروریات کو حل کرنے کیلئے مفید اور بابرکت اجتماع ہے جس میں بغیر کسی قسم کے جھگڑے اور فساد کے قوم کے سامنے ضروریات پیش کر دی جاتی ہیں۔چونکہ آج ایک ضروری سوال در پیش ہے جس کے متعلق جماعت کی رائے دریافت کرنا ضروری ہے اس لئے میں اس اجتماع سے فائدہ اٹھاتا ہوں۔گو پہلے بھی ایک دفعہ یہ سوال پیش ہو چکا ہے مگر چونکہ اس وقت اس کا موقع نہیں تھا اس لئے فیصلہ نہ کیا گیا۔اب میں دوبارہ اس کو یہاں لوگوں کے سامنے پیش کرتا ہوں اور اخباروں والے اخباروں کے ذریعہ باہر کے لوگوں تک پہنچادیں تا کہ سب لوگ اس پر غور کر کے مجھے جواب دیں۔امید ہے کہ اس بات سے سب واقف ہوں گے کہ ایک بڑی رقم پر مولوی محمد علی صاحب نے صدر انجمن احمدیہ کا ملازم رہ کر ترجمۃ القرآن کا کام کیا ہے اور ان کی وہ چٹھیاں اور کاغذات جن میں وہ لکھتے رہے ہیں کہ ترجمۃ القرآن کیلئے مجھے فراغت چاہئیے ، الگ مکان چاہیئے ، پہاڑ پر جانے کی ضرورت ہے ، ٹائپ رائٹر درکار ہے، مددگار مولوی کی ضرورت ہے، ٹائپسٹ چاہئیے وغیر ہا اس وقت تک موجود ہیں۔پھر مولوی محمد علی صاحب کی یہ تحریر بھی موجود ہے کہ مولوی شیر علی صاحب کو ایڈیٹر بنا دیا جائے اور مجھے ترجمۃ القرآن کیلئے خاص طور پر فارغ کر دیا جائے۔پانچ چھ سال میں قریبا اڑھائی تین ہزار سالانہ خرچ کے حساب سے پندرہ ہزار روپیہ اس کام پر خرچ ہوا ہے۔اور اس کے علاوہ اس کے متعلق دیگر اشیاء پر جو روپیہ خرچ ہوا ہے وہ بھی دو تین ہزار کے قریب ہے۔یعنی مددگار مولویوں اور کلرکوں اور کتابوں وغیرہ کا خرچ مل ملا کر کوئی پانچ ہزار کے قریب بنتا ہے۔گل ہیں ہزار انداز اسمجھ لو۔یہ روپیہ جو ایک خاص کام کیلئے مولوی محمد علی صاحب ہے خرچ ہوا ہے انہوں نے جو کام کیا تھا وہ تمام کا تمام ساتھ لے گئے ہیں۔یہ بات آپ سب لوگ جانتے ہیں اور یہ بھی جانتے ہیں کہ اس کو وہ اپنی ملکیت قرار دے رہے ہیں۔کیوں؟ اس لئے کہ ان کا دماغ خرچ ہوا ہے پھر اور کیوں؟ اس لئے کہ انہیں ایک ایسا قانون مل گیا ہے کہ وہ اس کی رُو سے اس پر قبضہ کر سکتے ہیں جس طرح آج تک بہت سے مسلمان کہلانے والوں کو یہ قانون ملا ہوا ہے کہ بیٹیوں اور بہنوں کو وراثت سے حصہ نہیں مل سکتا اس لئے وہ نہیں دیتے۔بے شک قرآن شریف میں آیا ہے کہ ان کو حصہ دو اور ضرور دو۔بے شک آنحضرت سی ایسی تم نے تاکید کی ہے کہ ان کو حصہ دو اور اس میں کوئی شک نہیں کہ انسانی عقل اور اخلاق حسنہ مجبور کرتے ہیں کہ بیٹیوں اور بہنوں کو حصہ