خطبات محمود (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 430 of 574

خطبات محمود (جلد 4) — Page 430

خطبات محمود جلد ۴ ۴۳۰ سال ۱۹۱۵ء کا سردار بنا دیا۔میں نے آپ سے بار ہا سنا آپ مخالفوں کو مخاطب کر کے فرمایا کرتے تھے کہ لوگ کہتے ہیں کہ میں مسیح بن گیا ہوں میں تو کبھی نہیں چاہتا تھا کہ مسیح بنوں۔مجھے تو گمنامی کے گوشہ میں رہنا ہی پسند تھا لیکن میں کیا کروں مجھے تو خدا نے بنا دیا ہے اس میں میرا کیا قصور ہے مجھ سے کیوں لڑتے ہو ا گر لڑنا ہے تو خدا سے لڑو۔تو اس انسان کے منہ سے بھی یہی معلوم ہوتا ہے کہ اگر کوئی دینی عزت حاصل کرنی چاہے تو کوشش سے نہیں ہوسکتی بلکہ اس کیلئے جتنا کوئی نیچے گرے، خدا اتنا ہی اُسے بلند کرتا ہے، بہت لوگ اس بات کو نہیں سمجھے۔چونکہ ہمارا سلسلہ دینی سلسلہ ہے اس میں وہی بڑا ہو سکتا ہے جو بڑائی نہ چاہے اور وہی اونچا ہو سکتا ہے جو اپنے کو نیچے گرائے۔اور وہی معزز ہو سکتا ہے جو دین کیلئے دنیا کی ہر ذلت کو برداشت کرنے کیلئے تیار ہے مگر میں دیکھتا ہوں کہ چھوٹی چھوٹی باتوں میں اختلاف پیدا ہو جاتے ہیں۔چھوٹی چھوٹی انجمنیں ہیں جن کا بہت قلیل چندہ آتا ہے مگر ان میں اس امر پر بحث شروع ہو جاتی ہے کہ انجمن کا سیکرٹری کون ہو، پریذیڈنٹ کون بنے۔جس کے دل میں یہ خیال ہو کہ میں پریذیڈنٹ بنایا جاؤں اگر وہ نہ بنایا جائے تو علیحدہ ہو جاتا ہے۔حالانکہ اگر دنیاوی عزت کے لحاظ سے دیکھا جائے تو کوئی ایک چھوٹی سی انجمن کا پریذیڈنٹ بن گیا تو کیا اور اگر نہ بنا تو کیا۔اسے دنیا داروں کے مقابلہ میں کیا عزت حاصل ہوئی۔باقی رہا دین کا معاملہ اس کے متعلق یا درکھنا چاہیے کہ خدا تعالیٰ کے حضور وہی عزت پاتا ہے جو عزت کا خیال بھی نہ کرے اور جو کوشش کرتا ہے وہ ضرور ذلیل کیا جاتا ہے۔اس وقت ہماری جماعت کیلئے نمونہ موجود ہے۔کچھ لوگ تھے جو عہدوں کا حاصل کرنا عزت کا ذریعہ سمجھے ہوئے تھے اور کوششوں سے چاہتے تھے کہ معزز بن جائیں۔لیکن جس طرح لکھی کو دودھ سے نکال کر باہر پھینک دیا جاتا ہے اسی طرح خدا تعالیٰ نے ان کو سلسلہ سے نکال کر باہر پھینک دیا۔ایک مشہور شعر ہے۔قسمت کی خوبی دیکھئے ٹوٹی کہاں کمند دو چار ہاتھ جبکہ لب بام رہ گیا یہی مثال ان لوگوں کی ہوئی وہ سمجھے بیٹھے تھے کہ سب کچھ ہمارے قبضہ میں آگیا ہے اور یقین رکھتے تھے کہ ہم اپنے منصوبوں میں کامیاب ہو گئے ہیں مگر اُس وقت جا کر کمند ٹوٹ گئی جبکہ دو چار ہاتھ لب بام رہ گیا۔یہ خدا تعالیٰ کی سنت ہے کہ مہلت دیتا ہے لیکن نادان انسان سمجھتا ہے کہ میں کامیاب ہو گیا ہوں لیکن جو نہی اس کے دل میں یہ خیال آتا ہے کہ اب ہاتھ رکھا تو کامیاب ہو جاؤں گا اسی وقت رتی بھنچتی ہے اور دھڑام سے نیچے آ گرتا ہے۔پس ہماری