خطبات محمود (جلد 4) — Page 421
خطبات محمود جلد ۴ ۴۲۱ سال ۱۹۱۵ء فرماتا ہے لَسْتَ عَلَيْهِمْ بِمُصَيْطِر ے کہ تو ان پر داروغہ نہیں تیرا کام تو نا دینا ہے منوانا نہ منوانا خدا کا کام ہے۔اس طرح خلافت کے متعلق مجھے تعجب آتا ہے کہ خلافت کیلئے کس بات کا جھگڑا ہے۔کیا یہ کوئی سیاست کا نزاع ہے، کوئی ایسی چیز میری تو سمجھ میں نہیں آتی۔جھگڑے یا تو عقائد پر ہوتے ہیں یا شریعت پر کہ خدا کا فلاں حکم یوں ہے اور یوں کرنا چاہئیے۔پھر جھگڑے ملکوں پر ہوتے ہیں ، مال و دولت پر ہوتے ، مکانات پر اور مختلف اشیاء پر جھگڑے ہوتے ہیں۔دیکھو جیسے فرانس، جرمن ، بیلجیئم ، آسٹریا یہ سب ملکوں کیلئے لڑتے جھگڑتے ہیں۔لیکن خلافت کسی ملک کا نام نہیں ، خلافت کوئی مال کی تھیلی نہیں ، خلافت کوئی کھانے پینے کی چیز نہیں۔خلافت کی دو ہی اغراض ہو سکتی ہیں ایک یہ کہ جماعت پراگندہ نہ ہو، جماعت کو تفرقہ سے بچایا جائے اور ان کو ایک مرکز پر جمع کیا جائے۔یہی تفرقہ کو مٹانے، پرا گندگی کو دور کرنے کیلئے ایک خلیفہ کی ضرورت ہوتی ہے نیز اس سے یہ غرض ہوتی ہے کہ جماعت کی طاقت متفرق طور پر رائیگاں نہ جائے بلکہ ان کو ایک مرکز پر جمع کر کے ان کی قوت کو ایک جگہ جمع کیا جائے۔اب ایک فریق کہتا ہے کہ آیت استخلاف کے ماتحت خلافت ضروری ہے اور ایک کہتا ہے کہ خلافت ضروری نہیں۔فیصلہ کیلئے ایک آسان راہ یہ ہو سکتی ہے کہ ہر شخص یہی سوچ لے کہ جو کام میں کرتا ہوں جماعت کیلئے کس قدر مفید ہے اور کس قدر مضر۔اگر اس کام کے کرنے سے جماعت کو فائدہ پہنچتا ہے تو کرے ورنہ اسے چھوڑ دے۔اب دیکھو کہ جماعت کا کثیر حصہ خلافت کے وجود کو جماعت کیلئے رفع تفرقہ کیلئے ضروری سمجھتا ہے اور دوسرا فریق اسے غیر ضروری خیال کرتا ہے۔بحثوں کا فیصلہ تو بھی ہو نہیں سکتا۔دیکھو خدا کی ہستی ہے اس میں اختلاف ہے۔پھر اس کی صفات میں اختلاف ہے۔ملائکہ کا وجود ہے اختلاف اس میں بھی موجود ہے۔اختلاف تو رہے گا۔اب دونوں فریق میں سے کس کا فرض ہے کہ اپنی ضد اور ہٹ کو چھوڑ دے۔اگر فریق مخالف یہ کہے کہ خلافت ثابت نہیں تو ہم یہ کہتے ہیں کہ اس کے خلاف بھی تو ثابت نہیں۔خلافت کو ماننے والے اگر خلافت کو چھوڑ دیں تو خدا کے نزدیک مجرم ہیں کیونکہ وہ آیت استخلاف کے ماتحت خلافت کو مانتے ہیں۔مگر خلافت کا ہونا یا نہ ہونا یکساں سمجھنے والے اگر اتفاق کیلئے خلافت کو مان لیں تو جماعت سے وہ تفرقہ مٹ سکتا ہے جس کی وجہ سے اتنا فتور پڑ رہا ہے۔حضرت مولوی صاحب کی وفات کے روز مولوی محمد علی صاحب نے مجھ سے